اسکرین شاٹ ضرور لیں۔ وہ سات طریقے جن سے آن لائن شاپنگ کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے

اسکرین شاٹ ضرور لیں۔ وہ سات طریقے جن سے آن لائن شاپنگ کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے

لو ہو گیا پھر سے دھوکہ ۔ یہ آن لائن شاپنگ بھی مصیبت ہی ہے ۔ دکھاتے کچھ ہیں اور بھیجتے کچھ اور ہیں۔ سدرہ نے سامنے پڑے تھیلے دیکھ کر غصے اور صدمے کے مل جلے لہجے میں کہا۔

بازاروں میں مارے مارے پھرنے کے بجائے اور ہر دوسرے مہینے لگنے والی سیل سے فائدہ اٹھانے کے لئے لوگ اب آن لائن خریداری کرنا پسند کرتے ہیں اس کے علاوہ کووڈ نے بھی دنیا میں شاپنگ کے عمل کو متاثر کیا ہے اس وجہ سے بھی آن لائن شاپنگ کے رجحان میں تیزی آئی ہے۔ لیکن جہاں آن لائن خریداری سے وقت اور محنت کی بچت ہوتی ہے وہیں اس کے ذریعے خریداروں کو کافی دھوکے بھی ملتے ہیں۔ نیچے ہم وہ طریقے بیان کریں گے جن سے آپ اپنے آن لائن خریداری کے عمل کو محفوظ ترین بنا سکتے ہیں۔

1۔ بھروسے مند برانڈز کا انتخاب کریں
اگرچہ بڑے اور نامی گرامی براڈز سے آن لائن خریداری کرنے کے بعد بھی دھوکہ ہوجاتا ہے لیکن وہ اپنا نام متاثر ہونے کے ڈر سے کسی حد تک اپنی غلطی تسلیم کرلیتے ہیں اور متبادل پپیش کردیتے ہیں جن سے خریداورں کے نقصان کی تلافی ہوجاتی ہے۔ جبکہ چھوٹے اور غیر معروف برانڈ یا دکانیں ایسا نہیں کرتے۔

2۔ اپنے شہر کے برانڈ سے آن لائن خریداری کریں
کوشش کریں کہ اپنے شہر یا علاقے کے برانڈ سے ہی خریداری کریں تاکہ مطلوبہ معیار یا سائز مختلف ہونے کی صورت میں واپس یا تبدیل کرنا ممکن ہو۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ برانڈ ایسا ہو جو آپ کو تبدیلی کی سہولت دیتا ہو۔
3۔ اسکرین شاٹ ضرور لے لیں
چاہے آپ کسی بھی جگہ سے آن لائن خریداری کررہے ہوں لیکن سودا پکا ہونے کے بعد اسکرین شاٹ ضرور لے لیں۔ عام طور پر بڑے برانڈز فون کال اور میسیج کر کے یا ای میل کر کے آرڈر کنفرم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ کے پاس اسکرین شاٹ ضرور ہونا چاہئے جو کسی غیر یقینی صورتحال میں دکھایا جاسکے۔

4۔ وائرس اور اسپیم سے محتاط رہیں
ایسی آن لائن دکانوں سے خریداری نہ کریں جن سے آپ کے موبائل کا اینٹی وائرس محتاط رہنے کا نوٹیفیکیشن بھیجے۔ اس کے علاوہ اسپیم پیغامات میں بھیجی گئی آفرز کو بھی نظر انداز کرنا بہتر ہے۔ اگر قسطوں پر آن لائن خریداری نہیں کررہے تو بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات ہر گز مت دیں۔

5۔ ریویوز جھوٹے بھی ہوتے ہیں
ایسے کئی لوگ ہوتے ہیں جو باقاعدہ جھوٹے ریویوز لکھنے کا کام کرتے ہیں جن میں سے زیادہ تر چھوٹے کاروبار رکھنے والے لوگوں کے قریبی ساتھی ہوتے ہیں۔ اس لئے ہر بار ریویو پر یقین کرلینا ٹھیک نہیں ہوتا۔ جہاں سے خریداری کررہے ہیں اس کے بارے میں اپنی جان پہچان کے لوگوں سے معلومات کرلیں۔
6۔ ہم ناموں کی پہچان کریں
اکثر بڑے برانڈز کے نام سے فائدہ اٹھانے کے لئے “فیک“ یا “جعلی“ ہم نام دکان بنا کر کاروبار کیا جاتا ہے۔ اس لئے خریدنے سے پہلے ویب سائٹ کا اچھی طرح جائزہ لے لیں کہ کاروبار کرنے والے کا کیا نام ہے اور وہ کس جگہ سے ہے۔ ایک یا دو پیج رکھنے والی ویب سائٹ سے خریداری مت کریں۔

7۔ شکایت کہاں کریں؟
پاکستان میں آن لائن خریداری کے مسائل حل کرنے کے لئے مختلف علاقوں میں کنزیومر کورٹس قائم ہیں لیکن ان کا طریقہ کار پیچیدہ ہونے کی وجہ سے عوام اپنا نقصان تو جھیل لیتے ہیں لیکن مزید پیسے دے کر عدالتوں سے رجوع نہیں کرتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *