اس بار بجلی کا بل زیادہ کیوں آیا؟ 5 ایسی تکرار جو تنخواہ دار گھرانوں ہر ماہ ہوتی ہیں

اس بار بجلی کا بل زیادہ کیوں آیا؟ 5 ایسی تکرار جو تنخواہ دار گھرانوں ہر ماہ ہوتی ہیں

تنخواہ جو کماتا تو مرد ہے لیکن اس کو خرچ کرنے کا اختیار مرد سے زیادہ گھر کی عورت کے پاس ہوتا ہے۔ اور اکثر تنخواہ دار گھرانوں میں اس کے خرچے پر تکرار ہونا ایک عام سی بات ہوتی ہے۔ میاں بیوی جو زندگی کی گاڑی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلاتے ہیں اس گاڑی کو چلانے کے لیے فیول یہی تنخواہ فراہم کرتی ہے اور اس کو غلط انداز میں خرچ کرنے والے میاں بیوی مہینے کے آخری تاریخوں میں خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں-

1: بل کی ادائیگی پر تکرار
عام گھرانوں میں سب سے زيادہ بڑا خرچہ بلوں کا ہوتا ہے ۔ بجلی کے بڑھے ہوئے بلوں نے ہر گھر کے بجٹ کو غیر متوازن کر دیا ہے ۔ اس وجہ سے میاں بیوی کے درمیان اس بات پر سب سے زيادہ تکرار ہوتی ہے کہ بیوی بجلی کے استعمال میں احتیاط نہیں کرتی ہے جس کی وجہ سے شوہر کی تنخواہ کا بڑا حصہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے-

2: ضروری اخراجات کا تعین
بلوں کے علاوہ گھر کے ضروری اخراجات میں سب سے بڑا حصہ کچن کے اخراجات کا ہوتا ہے جس کی لسٹ تو بیگم بنا دیتی ہیں لیکن شوہر حضرات ان میں اپنی مرضی کی کٹوتی کرتے ہیں اور یہ کٹوتی وہ اپنی تنخواہ کے حساب سے کرتے ہیں جس کے سبب میاں بیوی کے درمیان یہ موضوع باعث تکرار بن جاتا ہے۔ اس کے بعد باری آتی ہے بچوں کی فیسوں کی جن کی ادائیگی ہر مہینے ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مائيں ٹیوشن پر بھیجنے کے حق میں ہوتی ہیں جب کہ شوہر اس بات کا اصرار کرتے نظر آتے ہیں کہ مائيں اپنے بچوں کو خود پڑھائيں-

3: شاپنگ پر بحث
عورتوں کو کپڑے بنانے کا شوق ہوتا ہے ۔ اور ان کے شوق کی قیمت مردوں کو اٹھانی پڑتی ہے ۔ اس وجہ سے اکثر عورتوں کو مرد اس بات پر قائل کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ زیادہ شاپنگ کرنے سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں-

4: دوستوں کی دعوت
جب عورتوں کو مرد شاپنگ کرنے سے منع کرتے ہیں ۔ تو اس کے جواب میں عورتوں کے پاس سب سے بڑا بہانہ مردوں کے دوستوں کی دعوتوں کا ہوتا ہے جو کہ تنخواہ کا ایک بڑا حصہ ڈکار لیتے ہیں ۔ اور عورتوں کو اس پر پکانے کی مشقت علیحدہ کرنی پڑتی ہے-
5: اپنے میکے والوں کی دعوت مت کرو
بیوی اپنے سسرال والوں کو جب کہ شوہر اپنے سسرال والوں کو تنخواہ کا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے ۔ اسی وجہ سے شوہر کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے گھر والے جب آئيں تو ان کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جائے جب کہ یہی پروٹوکول بیوی اپنے میکے والوں کو دینے کی کوشش کرتی ہے جس کے سبب میاں بیوی کے درمیان تکرار ہونا ایک عام بات ہوتی ہے-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *