ایس سی اوکسی پرائیویٹ نیٹ ورک کی راہ میں رکاوٹ نہیں:ادارے کی وضاحت

ایس سی اوکسی پرائیویٹ نیٹ ورک کی راہ میں رکاوٹ نہیں:ادارے کی وضاحت

گلگتSCOایک حکومتی ادارہ ہے اورPTAکے قوانین کے تحت کام کرتا ہے ۔ دیگر ٹیلی کام نیٹ ورکس کو اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار SCOکے پاس نہیں ہے اور نہ ہی SCOکسی بھی پرائیویٹ نیٹ ورک کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔یہ بات ادارے کی جانب سے ایک وضاحتی بیان میں کہی گئی ہے کہ وقتا فوقتاََ یہ تاثر پھیلا یاجاتا ہے کہ SCOدیگر ٹیلی کام نیٹ ورکس کی راہ میں رکاوٹ ہے جبکہ یہ بات حقائق کے منافی ہے بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ اس ضمن میں SCOنے PTAکوگزارش بھی کی ہوئی ہے کہPTA دیگر نیٹ ورکس کو پابند کرے کہ وہ GBمیں آکر 3G/4Gسروس مہیا کریں ۔SCOایک حکومتی ادارہ ہونے ے ناطے منافع کے بجائے ہمیشہ عوام کی بہبود پر توجہ دیتا ہے جبکہ دیگر کمرشل ٹیلی کام نیٹ ورکس GBکے صارفین کو 3G/4Gسروسز فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتی۔مزیدبرآںGB کے تمام بڑے شہروں میں دیگر ٹیلی کام نیٹ ورکس کے ٹاورز نصب ہیں اور کچھ ٹیلی کام کمپنیز 3G/4Gسروس دینے کا دعویٰ بھی کرتے ہیںجس کی کارکردگی سب کے سامنے عیاں ہے ۔ واضح رہے کہ SCOمنسٹری آف آئی ٹی کا ذیلی ادارہ ہے اور خطے میں ٹیلی کام کی ترقی اور وسعت کیلئے جتنے بھی پراجیکٹس شروع کیے جاتے ہیں ان سب کی منظوری اور فنڈنگ منسٹری آف آئی ٹی کے صوابدید پر منحصرہوتا ہے ۔خطے کے انتہائی نامساعد حالات و محدود وسائل کے باوجود SCOکی ہر ممکن اور ہر لمحہ یہ کوشش رہی ہے کہ علاقے کا ہر فرد ٹیلی کام کی جدید ٹیکنالوجی کا حصہ بنے اور GBکے عوام کے لیے اپنی تمام سروسز کے معیار کو مزید بہتر بناتے ہوئے خطے کے تمام دور دراز علاقوں تک وسعت دیا جائے جس کے لیے مختلف منصوبوں پر بہت تیزی سے کام کیا گیا ہے ۔اور اس سلسلے میں پچھلے 6مہینوں میں GBکے مختلف علاقوں میںمزید 70نئے ٹاورزنصب کر کے3G/4Gسروس فراہم کر دی گئی ہے۔ نیز مختلف علاقوں میں پہلے سے موجود(34 ) 2Gٹاورزپر 3G/4Gسروس کو وسعت دی گئی ہے۔ جبکہ پورے KKHپر مکمل کوریج مہیا کرنے کے لیے شتیال سے خنجراب ٹاپ تک65نئے ٹاورزکی تنصیب کا کام بھی جاری ہے اور بہت جلدDSLکو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے فائبر ٹو ہوم کا منصوبہ بھی GBکے چار بڑے شہروں میں زیر تکمیل ہے۔SCOایک عوامی ادارہ ہونے کے ناطے ٹیلی کام کی جدید خدمات کو گلگت بلتستان کے کونے کونے تک وسعت دینے کیلئے دن رات کو شاں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *