دکھا دیں کون کس کو کال کر رہا ہے اور بات کر رہا ہے:جنرل بابر افتخار

دکھا دیں کون کس کو کال کر رہا ہے اور بات کر رہا ہے:جنرل بابر افتخار

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے بیک ڈور رابطوں کی ایک مرتبہ پھر تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے بیک ڈور رابطوں کی ایک مرتبہ پھر تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ’فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جو لوگ بیک ڈور رابطوں سے متعلق قیاس آرائیاں کر رہے ہیں وہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں۔‘

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کے رابطوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک مرتبہ پھر واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ سیاست سے افواج کا اس وقت کوئی تعلق نہیں ہے، کسی قسم کے بیک ڈور رابطے یا چینل نہیں استعمال کیے جا رہے۔‘

خیال رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ بیان گذشتہ روز دیا گیا تھا جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ٹرینڈز اب بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر دو ٹرینڈ دکھائی دے رہے ہیں جن میں سے ایک ہیش ٹیگ ڈی جی آئی ایس پی آر کے نام سے ہے اور دوسرا ’سیاست میں مت گھسیٹیں‘ ہے۔

ان ٹرینڈ کے ذریعے بعض صارفین ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر تبصرے اور بحث کر رہے ہیں جبکہ بعض کی جانب سے چند پرانی تصاویر کے ساتھ میمز شیئر کی جا رہی ہیں۔

وقاص نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’پریشانیوں کے اس دور میں ہنسانا ایک نیک کام ہے۔‘

راجہ اظہر سلیم نامی صارف نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمیں اس اقدام کو سراہنا چاہیے۔‘

نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ’جو لوگ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں ان سے پھر کہوں گا کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہمارے پاس ملکی سکیورٹی کے حوالے سے اندرونی اور بیرونی معاملات دیکھنے کا بہت بڑا کام ہے جو ہم پوری طرح سے سرانجام دے رہے ہیں۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’بغیر کسی ثبوت، تحقیق کے اس بارے میں تبصرہ کرنا، بات کرنا میرے خیال میں کسی کو بھی زیب نہیں دیتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اس بارے میں بات کر رہا ہے اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے اور وہ تحقیق کے مطابق کوئی چیز سامنے لاسکتے ہیں تو لے آئیں۔ دکھا دیں کون کس کو کال کر رہا ہے اور بات کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *