حاملہ بیوی سے کتنے مہینے تک قربت کرسکتے ہیں؟ اس کے کیا فائدے ہیں اور کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

بیوی سے کتنے مہینے تک قربت کرسکتے ہیں؟ اس کے کیا فائدے ہیں اور کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

آج کا سوال پوچھا گیا ہے کہ ح، املہ عورت سےقربت کی جاسکتی ہے یعنی عورت حمل سے ہے اور اولاد پیدا کرنے جارہی ہے تو کیا اس کیساتھ قربت کی جاسکتی ہے ۔ اگر کی جاسکتی ہے تو حمل کے کس مہینے تک کی جاسکتی ہے اس میں ہمارے نوجوان بہت پریشان ہوتے ہیں ان کے ذہن میں الگ الگ سوالات ہوتے ہیں کہ اگر ح، املہ بیوی سے قربت کی گئی تو یہ جائز نہیں ہے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حمل میں اگر لڑکی ہوئی تو وہ شرماتی ہے۔کچھ لوگوں کے ہاں یہ کہا جاتا ہے۔ حمل کے دوران قربت کریں گے تو بچہ اندھا پیدا ہوگا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حمل کے دوران قربت نہ کی جائے بیوی کا

حمل سے ہونے کا کیا فائدہ آپ کو پتا ہے کہ جب ڈیلیوری ہوجاتی ہے تو اس کے بعد عورت مرد یہ چاہتے ہیں کہ بچوں کے دوران کچھ وقفا کیا جائے اس وقفے کے دوران یا تو کن ڈم لگایا جاتا ہے یا باہر ڈس چارج کیا جاتا ہے ایسی باتیں فوراً بچے پیدا کرنا نہ عورت کی طاقت ہوتی ہے۔ معاشرتی طور پر بھی آجکل والدین نہیں چاہتے کہ ان کے ہاں اولاد ہو اگر ح، املہ عورت سےقربت نہیں کریں گے

تو سکون والا معاملہ نہیں ہوپاتا ۔ح، املہ عورت سے قربت جائز ہے شریعت میں اسکی کوئی ممانعت نہیں ہے کہ قربت کریں گے کہ تو آپ کا بچہ اندھا پیدا ہوجائیگا یا لڑکی لعنت کریگی شریعت میں کوئی ایسی ممانعت نہیں ۔ چار مہینے کے بعد جب بچے میں روح آجاتی ہے جب بھی آپ دل چاہیں تو قربت کرسکتے ہیں شرط یہ ہے کہ کسی ڈاکٹر نے منع نہ کیا ہو یہ نہ ہو کہقربت کرنے سے عورت یا بچے کی جان کو خطرہ ہو یا عورت طبیعت بگڑنے کا اندیشا ہے اگر عورت کی صحت اجازت دیتی ہے ڈاکٹر نے منع نہیں کیا تو نوماہ تک بھی قربت کرسکتے ہیں کوئی نقص والا بچہ پیدا نہیں ہوگا بس ح، املہ عورت کیساتھ تھوڑی احتیاط کریں کہ اسے تکلیف نہ ہو ۔

اس بارے میں کیا فتویٰ ہے وہ بتاتے ہیں کہ ح، املہ عورت کے اندر قربت کریں گے تو تین فائدے ہوتے ہیں سب سے پہلا بچے کی بصارت اچھی ہوگی دوسرا بچے کے بال خوبصورت پیدا ہونگے ۔بچے کی سماعت اچھی ہوگی اسکا کانوں کا سننا اچھا ہوگا ۔ح،

املہ عورت کیساتھ قربت کرنے تین بڑے فائدے ہیں اگر کسی ڈاکٹر نے منع نہیں کیا ہو۔یہ کہنا کہ عورت کیساتھ حمل کے دوران قربت کرنا ناجائز ہے قربت کا رشتہ خدا کا تخلیق کردہ رشتہ ہے اب وہ ایک وقت میں جائز اور دوسرے وقت میں ناجائز کیسے ہوسکتا ہے ۔اگر کسی معالج نے منع کیا ہے تو اس صورت میں احتیاط کیجئے اگرکسی نے منع نہیں کیا تو قربت کرسکتے ہیں ۔کیونکہ ڈیلیوری کے بعد کچھ عرصہ احتیاط کرنی پڑتی ہے کچھ عرصہ فاصلہ رکھنا ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *