اپنی بیٹی کو جہیز محدود اور بہو سے کروڑوں کے جہیز کی ڈیمانڈ

اپنی بیٹی کو جہیز محدود اور بہو سے کروڑوں کے جہیز کی ڈیمانڈ

والدین کے لئے اولاد بڑی ذمہ داری ہے اور جب بچوں کی شادیوں کا وقت آتا ہے تو بیٹوں کی شادی میں والدین کھل کر لڑکی والوں کے سامنے جہیز کی فرمائشیں رکھ دیتے ہیں جس کی وجہ سے لڑکی کے ماں باپ بیچارے معاشرے کے تعنوں سے بچنے اور اپنی عزت بچانے کی خاطر بیٹی کو سونے اور لاکھوں کے جہیز سے لادھ کر وِدا کرتے ہیں جو کہ ایک انتہائی ناگزیر عمل ہے۔جبکہ کوئی مذہب یہ نہیں کہتا کہ بیٹیوں کو بے تحاشہ جہیز دو، ضرورت کی چند چیزیں اپنی مرضی اور خوشیسے دینا برائی نہیں ہے۔ بلکہ سسرال والوں کی طرف سے فرمائشوں پر مانگا جانے والا جہیز ایک لعنت ہے۔کل سے سوشل میڈیا پر یو این وومن ادارے کی جانب سے چند تصاویریں وائرل ہو رہی ہیں جن میں یہ بات واضح طور پر نظر آ رہی ہے کہ جہیز آخر کیا ہے؟تصویر میں دو پہیے والی گدھا گاڑی نما ایک گاڑی ہے جس میں گدھے کی جگہ روتی ہوئی شادی کے لباس میں تایر ہوئی دلہن ہے، جس کے پیچھے برتن، زیور، گاڑی، تکیے، بستر اور گھر میں استعمال ہونے والا ڈھیروں سامان ہے جن کے اوپر دولہا میاں مزے سے پیسوں کا ہار پہنے ہوئے کھڑے ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک لڑکی کو جہیز کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ہمارے معاشرے میں جب لوگ بڑے پن کی بات کرتے ہیں تو ادب کا لحاظ کرتے ہوئے دوسروں کے سامنے کالر اونچا کرکے یہ کہہ دیتے ہیں کہ جہیز لعنت ہے، نہ کوئی مانگے اور نہ کوئی دے، مگر جب ان کے بیٹے کی شادی کی آئے تو دلہن والوں سے کروڑوں کا جہیز اور گھر سمیت گاڑی مانگتے ہیں، اور جب کوئی ان کی فرمائشوں پر عمل نہ کرے تو انہیں ہزاروں قسم کے تعنوں اور بد کلمات سے پکارتے ہیں ، دوسروں کے سامنے زلیل کرتے ہیں اور ان کی بیٹی کے کردار کی کرتے پھرتے ہیں جبکہ اس سب میں لڑکی کا تو کوئی قصور نہیں، محض اتنا کہ وہ ایک غریب یا کم پیسے والے باپ کی بیٹی ہے؟ ؟دنیا گلوبلائزیشن کے دہانے پر پہنچ گئی مگر پاکستان میں آج بھی جہیز کا رواج ختم نہ ہو سکا۔ آخر والدین بی بی فاطمہ جیسا جہیز اپنی بیٹیوں کو کیوں نہیں دیتے؟ کیوں دنیا بھر کی آسائشیں لڑکے والے مانگنے میں شرم نہیں کھاتے؟کب تک ہماری بہنیں اور اس قسم کی بیٹیاں صرف اس لیئے والدین کی دہلیز پر کنواری بیٹھی رہیں گی کہ ان کے والدین ان کو جہیز نہیں دے سکتے؟ کای یہ المیہ ہماری قوم کا ہے؟ ہم لوگ ہر چیز میں انگریزوں کا رواج اپنا رہے ہیں تو کیوں ان کے رواج کی طرح جہیز مانگنا ختم نہیں کر دیتے ؟٭ جہیز کا مطلب:جہیز کا مطلب کروڑوں کی آسائشیں نہیں ہوتا، بلکہ جہیز کا اصلی معنی یہ ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کو ایک نئے گھر کو اپنا بنا کر رکھنے کی تمیز اور تلقین کریں تاکہ معاشرے ہموار ہو سکیں، آئندہ آنے والی نسل اس لعنت سے آزاد ہوسکے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ شادی کا معیار جانچنے کے لئے کل بھی مہنگا اور ڈھیر سارا جہیز تھا اور آج بھی یہی ہے۔پاکستان اور ہندوستان میں بغیر جہیز دیئے شادیوں کو نا مکمل مانا جاتا ہے اور کچھ وقت پہلے بھارت میں طلاق کے ڈھیروں کیسز رپورٹ ہوئے، جن کی وجہ جہیز کم دینا بنی، جس پر ایک سوشل بحث چھڑ گئی تھی، اور اب اسی کی بناء پر یہ تصویر بھی خوب وائرل وہ رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *