ریاض الجنہ کو جنت کا ٹکڑا کیوں‌کہتے ہیں؟

ریاض الجنہ کو جنت کا ٹکڑا کیوں‌کہتے ہیں؟

ریاض الجنہ کی فضیلت و عظمت

رسول اللہﷺ کا ارشاد مبارک ہے:مَا بَیْنَ بَیْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَة مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّة ۔
یعنی میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ (ریاض الجنہ)  جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔(بخاری)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حجرہ مبارکہ اورمنبر نبویﷺ کے درمیانی حصہ کو روضہ یا ریاض الجنہ کا باغیچہ کہا جاتا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے(بخاری و مسلم)۔

امام ابو جعفر طحاوی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:دونوں احادیث یعنی : مَا بَیْنَ قَبْرِیْ وَمِنْبَرِي رَوْضَة مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّة اور مَا بَیْنَ بَیْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَة مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّة ۔کی تصحیح اس بات کو واجب کرتی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا مقدس گھر ہی قبر انور بنا اور اس اعتبار سے بلاشک و شبہ یہ نبوت کی عظیم علامتوں میں سے ایک علامت ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کے سوا ہر ایک پر اللہ تعالی نے یہ مخفی رکھاکہ وہ کس جگہ وفات پائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو آپ ﷺ کے وفات پانے کی جگہ بتادی، اور اس جگہ کو بھی بتادیا جس میں آپ ﷺ کی قبر انورہوگی، اور آپ ﷺ کو اس کا علم آپ ﷺ کی حیات ہی میں ہوگیا تھا، یہاں تک کہ آپ نے اپنی امت میں سے جن کو چاہا اس بات کی خبر دی، یہ وہ مقام و مرتبہ ہے جس کے اوپر کوئی مقام و مرتبہ نہیں۔(شرح مشکل الآثار للطحاوی)۔

ریاض الجنہ حضرت عائشہؓ کے حجرہ مبارکہ سے لیکر حضور پاک کے منبر مبارک تک ہے۔جنت کا یہ باغ جنت ہی کا ایک قطعہ ہے ،جیسے حجر اسود جنت کا ایک پتھر ہے۔محدثین کرام فرماتے ہیں کہ جب ساری زمین فنا ہو گی ، ریاض الجنہ کو اٹھا کر جنت میں منتقل کر دیا جائے گا ۔

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :میرا منبرجنت کے بلند و بالا باغ پر واقع ہے اور میرے منبر اور گھر کے درمیان کا حصہ جنت کی ایک کیاری ہے۔کسی مسلمان کو یہ یقین ہو جائے کہ وہ جنت میں بیٹھا ہے تو اس کو مزید کچھ مانگنے کی طلب نہیں رہتی بلکہ اس کی بولتی بند ہو جاتی ہے مگر ریاض الجنہ میں بھی امت میں ہنگامہ آرائی،دھکم پیل،چیخ وپکاراور غیر مہذب رویے دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ امت ریاض الجنہ کا ادراک رکھتی ہے۔

ریاض الجنۃ کی شناخت کے لئے یہاں سفید سنگ مرمر کے ستون ہیں۔ ان ستونوں کو اسطوانہ کہتے ہیں،ان ستونوں پر ان کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں ۔ ریاض الجنۃ کے پورے حصہ میں جہاں سفید اور ہری قالینیں بچھایں گیئں ہیں۔

منبر رسول اللہ ﷺ:

منبر بننے سے پہلے رحمت عالم ﷺ ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ کے وقت ایک درخت یا کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک انصاری نے پیش کش کی : یا رسول اللہ ﷺ!کیاہم آپ ﷺ کے لیے ایک منبر نہ بنادیں؟آپ ﷺ نے فرمایا: جیسے آپ کی مرضی۔

جمعہ کا دن آیاتو آپ ﷺمنبر پر تشریف فرماہوئے تو وہ تنا بچے کی طرح چیخ چیخ کر آپ رحمت عالم ﷺکے فراق میں رونے لگا قریب تھا کہ پھٹ جائے، رحمت عالم ﷺمنبر سے اترے اپنا رحمت والا دست مبارک پھیرا اور براویت امام بخاری رحمہ اللہ سینے مبارک سے لگایا آغوش رحمت میں لیا تو وہ تنا سسکیاں لیتے ہوئے اس طرح چپ ہو گیا جیسے روتے ہوئے بچے کو ماں چپ کراتی ہے ۔

موجودہ منبر کی بائیں جانب ایک محراب ہے یہ بہت خاص جگہ ہے یہ وہ عظیم جگہ ہے جہاں پر رحمت عالم ﷺنماز پڑھایا کرتے تھے اس محراب کے اوپر درمیان میں لکھا ہے:ھذا محراب رسول اللہ ﷺ یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کی محراب ہے، اور محراب کے داہنے پائے پر لکھا ہے ۔۔ھذا مصلی رسول اللہ ﷺ یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کی جائے نماز ہے۔

روایات میں آتا ہےاس جگہ پر رحمت عالم ﷺنماز پڑھایا کرتے تھے آپ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امامت فرمائی لیکن آپ ﷺکی جگہ سے تھوڑا پیچھے ہو کر نماز پڑھایا کرتے تھے کہ جس جگہ رحمت عالم ﷺکے قدم مبارک ہوتے تھے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا وہاں سر مبارک پڑتا تھا اللہ اکبر کیا کمال ادب تھا ۔جس جگہ آپ ﷺکا سر مبارک پڑتا تھا وہ جگہ بند کرا دی تھی ادب کی وجہ سے کہ کسی کا پاؤں نا پڑے۔

مسجد نبوی ﷺمیں نماز پڑھنے کا ثواب ہر جگہ برابر ہے مگر یہ مبارک جگہ سب سے بڑی فضیلت کی جگہ ہے، یہاں پر نماز کی عجیب کیفیت ہے دو رکعت کی بھی توفیق مل جائے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے۔

ریاض الجنہ کے اہم ستون:

حرم کعبہ بی بی حاجرہ علیہاالسلام اور مسجد نبوی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دو ایسی سنت زندہ ہیں جنہیں تا قیامت امت محمدیہ کے لئے عبادت کا جزوہ بنا دیا گیا ۔ ان دو عظیم خواتین نے مردوں کو بھی عبادت کا راز سمجھا دیا۔مکہ میں سیدہ حاجرہ ؑ کی ممتا ایسی بھاگیں کہ مقرب انبیاءکو بھی اس ادا کاپابند بنا دیا اور مدینہ میں زوجہ رسول اللہ ﷺ کو جنت کا وہ راز سمجھا دیا کہ مرد وں کے لئے بھی ہدایت کا سامان بنا دیا۔

ویسے تو مسجد نبوی ﷺ کا چپہ چپہ عاشقوں کے لیے نہایت محترم ہے لیکن روضہ رسول ﷺ اور ریاض الجنہ کی شان بہت بلند ہے۔ریاض الجنہ روضہ الرسول ﷺ سے منبر تک بائیس میٹر طویل اور پندرہ میٹر چوڑا ہے، اس حصے میں آٹھ ستون ایسے ہیں جنہیں مسجد نبوی ﷺ کے باقی ستونوں سے امتیاز حاصل ہے، ان ستونوں کو سنگ مرمر اور سنہری مینا کاری سے مسجد نبوی ﷺ کے باقی ستونوں سے نمایاں کیا گیا ہے. یہ ستون روضہ انور کی مغربی دیوار کے ساتھ ممتاز کر دیے گئے ہیں جو ریا ض الجنہ کے اندر واقع ہیں. ان عظیم الشان متبرک ستونوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:۔

ستون حنانہ:

یہ منبر رسول ﷺ کے نزدیک واقع ہے. جب کسی اونٹنی کے بچے کو ماں سے جدا کر دیا جائے تو وہ اپنی مادر کے فراق میں روتا اور بلکتا ہے، اس آواز کو عربی میں حنانہ کہتے ہیں۔ اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔۔

ستون ابی لبابہ:

روضہ رسول ﷺ کے بلکل سامنے واقع ہے، اسے ستون توبہ بھی کہا جاتا ہے. اس ستون کی وجہ تسمیہ کچھ اس طرح ہے کہ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو وہاں پہلے سے بہت زیادہ یہودی موجود تھے، مسلمانوں نے ان سے امن معاہدہ کر لیا لیکن یہودیوں نے امن معاہدے کی پاسداری نہ کی اور اسے تو ڑ دیا تو اللہ تعالی اور رسول کریم ﷺ نے سخت غصے اور بر ہمی کا اظہار کیا اور پھر اللہ تعالی کی طرف سے حکم نازل ہوا کہ معاہدے کی حدیں پامال کر نے والے یہودیوں کو قتل کر دیا جائے۔

حضرت ابولبابہ مدینے کے پرانے رہائشی تھے، ان کے یہودیوں کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے. انھوں نے ہر چیز جا کر یہودیوں کو بتا دی اور ہاتھ کے اشارے سےگردن کی طرف اشارہ کیا کہ آپ سب کے گلے کاٹے جا ئیں گے، بعد میں انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا کہ اُنہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اپنی اس غلطی پر وہ اتنے زیادہ شرمندہ ہوئے کہ احساس ندامت سے زمین میں گڑے جا رہے تھے، انہوں نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مجرم گردانتے ہوئے مسجد نبوی ﷺ میں ایک کجھور کے درخت کے ساتھ رسیوں سے باندھ لیا اور پھر اللہ کی بارگا ہ میں گڑ گڑا کر اپنی غلطی کی معا فی مانگنے لگے، ان کا کہنا تھا جب تک اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا، میں اسی طرح اپنے آپ کو رسیوں سے باندھے رکھوں گا، پھر اللہ تعالی نے اُنہیں معاف کر دیا۔

ستون سریر:

اس کا مطلب ہے سونے کی جگہ. یہ وہ جگہ ہے جہاں رسول اقدس ﷺ نے اعتکاف فرمایا، اس جگہ آپ کا بستر مبارک بچھا ہوتا، اس بستر پر اکثر سرورکائنات ﷺ آرام فرماتے۔

ستون وفود:

اس جگہ مدینہ سے باہر آئے ہو ئے وفود آپ ﷺ سے ملاقات کرتے اور دین اسلام کے متعلق انہیں آقائے دوجہاں ﷺ تبلیغ فرماتے۔

ستون حضرت علیؓ:

اس جگہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم اکثر نماز ادا کیا کر تے تھے نیز اس جگہ بیٹھ کر سرکار دوجہاں ﷺ کی پاسبانی بھی کیا کر تے۔ محبوب خدا شافع محشر ﷺ جب حضرت عائشہ ؓ کے حجرہ مبارک سے نکل کر مسجد میں داخل ہوتے تو اسی جگہ سے ہو کر گزرتے۔اکثر اوقات دیگر صحابہ کرام ؓ بھی حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ بیٹھ جایا کر تے، اس مناسبت سے اسے ستون علی کہتے ہیں۔

ستون تہجد:

یہ ستون اصحاب صفہ کے چبوترے کے سامنے اور حضرت فاطمہ ؓ کے حجرے کے کو نے پر واقع ہے. اس جگہ نبی کریم ﷺ نماز تہجد ادا فرماتے، اِس لیے اس کا نام ستون تہجد ہے۔

ستون جبرائیلؑ:

ستون جبرائیل ؑ: اس جگہ سےحضرت جبرائیل داخل ہو کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے۔ آج کل یہ ستون روضہ مبارک کے اندر آنے کی وجہ سے نظروں سے اوجھل ہے۔

ستون عائشہؓ:

رو ضہ رسول ﷺ کی جانب سے چلیں تو راستے میں آنے والا تیسرا ستون، ستون عائشہ صدیقہؓ کہلا تا ہے. پیارے آقا ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں فرمایا تھا کہ اِس مسجد میں ایک ایسی متبرک جگہ موجود ہے، اگر لوگوں کو اُس کی فضیلت کا اندازہ ہو جائے تو وہ قطاروں میں کھڑے ہو کر اُس جگہ نماز پڑھیں، مگر آپ ﷺ نے وہ جگہ نہ بتائی. آپ ﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے درخواست کی کہ اُس جگہ کی نشاندہی کر دیں تو آپ نے انکار کر دیا لیکن بعد میں حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ کے اصرار پر اُس جگہ کی نشاند ہی کر دی۔

Comments are closed.