غربت کا فائدہ

غربت کا فائدہ

کورونا وائرس تو لگتا ہے کہ آخرکار تھک ہار کر چلا گیا لیکن کسان ہیں کہ ہٹنے کو تیار ہی نہیں ہیں، اب ڈھائی مہینے ہونے کو آئے اور وہ دلی کی سرحدوں پر کچھ اس انداز میں خیمہ زن ہیں کہ جیسے گھر لوٹنے کی کوئی جلدی ہی نہ ہو۔
گذشتہ ہفتے یوم جمہوریہ کے موقع پر انہوں نے جب ریڈ فورٹ پر ایک ریڈ لائن پار کی اور لال قلعہ کی فصیل پر ایک مذہبی پرچم لہرایا تو لگنے لگا تھا کہ اب انہیں اپنا بوریا بستر باندھنا ہی پڑے گا۔
لال قلعہ کے واقعہ پر کسانوں کو کافی تنقید کا سامنا تھا، ان کے لیے ہمدردی کافی کم ہوئی تھی اور ایسا لگنے لگا تھا کہ اب اس تحریک کی کمر ٹوٹ جائے گی حالانکہ کسان یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ تشدد سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا اور یہ ان کی تحریک کو بدنام کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش تھی۔
واقعی سازش تھی یا نہیں کہنا مشکل ہے لیکن کبھی کبھی خاموش بیٹھنا بھی اچھی حکمت عملی ہوتی ہے۔ لیکن حکومتیں بھی کہاں سکون سے بیٹھتی ہیں، اہلکاروں کو شاید یہ فکر تھی کہ کسان اتنے دنوں سے اپنے گھروالوں سے دور ہیں، ان سے ملنے کے لیے تڑپ رہے ہوں گے، اب انہیں گھر واپس بھیج دینا چاہیے، اپنے گھر والوں کی پریشانی وہ خود نہیں سمجھ رہے تو کیا، ہمیں تو ان کے بارے میں بھی سوچنا پڑتا ہے۔
اس لیے حکم صادر کر دیا گیا کہ سڑکیں خالی کر دی جائیں۔ بجلی پانی بند۔ مقدمات قائم۔ اور پولیس اور نیم فوجی دستوں کی نفری اس قدر بڑھا دی گئی کہ بہت سے لوگ تو دیکھ کر بس شکر ادا کر رہے ہوں گے کہ اچھا ہی ہوا کہ ہم کسی کسان کے گھر میں پیدا نہیں ہوئے۔
پھر ایک کسان رہنما راکیش ٹکیت ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رو پڑے۔ آنسو اس خوشی کے تھے کہ چلو بیوی بچوں کے پاس واپس جانے کا وقت آ گیا ہے یا وہ تحریک کی بدنامی اور انتظامیہ کی مجوزہ کارروائی سے پریشان تھے، یہ تو وہ ہی جانیں، لیکن ان کی ویڈیو وائرل ہوگئی، کسانوں نے اپنے رہنما کو روتے ہوئے دیکھا تو انہیں اچھا نہیں لگا اور تحریک میں نئی جان پڑ گئی۔ اب کسان دوبارہ سےمتحد ہو رہے ہیں، انہیں لگ رہا ہے کہ ان کے رہنما کی توہین کی گئی ہے۔
کسان تین نئے متنازع زرعی قوانین کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان قوانین سے ان کی روزی روٹی اور زمینں دونوں ہی خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اور حکومت کی تمام یقین دہانی کے بعد بھی کسانوں کے دھرنوں میں شریک لوگوں کی تعداد دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔ مغربی اتر پردیش اور ہریانہ میں بڑے بڑے جلسے ہو رہے ہیں اور اب حکومت اور کسانوں کےدرمیان کسی سمجھوتے کا امکان اور بھی مشکل نظر آنے لگا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سال تک متنازع قوانین پر عمل نہ کرنے کی پیش کش پر حکومت اب بھی قائم ہے۔ کسان اس تجویز کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ اتنا طے ہے کہ بات چیت کا راستہ اب بہت تنگ ہوگیا ہے۔
اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اب کہنا مشکل ہے، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہےکہ اونٹ گھر واپس چل دیا تھا، اگر دھرنے کی جگہ خالی کرنے کا حکم نہ دیا جاتا تو شاید اب تک گھر پہنچ بھی گیا ہوتا۔
بات کورونا وائرس سے شروع ہوئی تھی تو اچھی خبر یہ ہے کہ کم سے کم فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ برا وقت گزر گیا ہے۔ دلی میں اب روزانہ سو سے بھی کم کیسز سامنے آ رہے ہیں، سکول کھولے جا رہے ہیں، سینیما ہالوں میں اب ہر دوسری سیٹ خالی رکھنے کا حکم بھی واپس لے لیا گیا ہے اور باہر سڑکوں پر نکلیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چند کورونا وائرس کا ان گلیوں سے کبھی گزر ہوا تھا۔
لیکن یہ معمہ ابھی باقی ہے کہ آخر اس پیمانے پر جانی نقصان کیوں نہیں ہوا جس کا خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے اپنی زندگی گنوائی، لیکن آبادی کے تناسب سے اور امریکہ سمیت مغربی ممالک کے مقابلے میں نہ صرف انڈیا بلکہ بہت سے دوسرے ترقی پذیر اور یہاں تک کہ غریب افریقی ممالک بھی کافی سستے میں چھوٹ گئے۔ ابھی جشن منانا تو قبل از وقت ہوگا کیونکہ وائرس کی نئی اقسام پھر جنوبی افریقہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں تباہی مچا رہی ہیں، لیکن اب ٹیکے لگنے شروع ہیں اور خوف ختم ہوتا جارہا ہے۔
سائنسدان تو اپنی تحقیق میں لگے ہوں گے، آخر ایسا کیسے ہوا کہ امیر ممالک میں جانی نقصان کی شرح زیادہ رہی، لیکن عام لوگ اپنے اندازے لگا رہے ہیں، ان کے پاس تحقیق پر برباد کرنے کے لیے وقت کہاں ہے۔
سب سے زیادہ مقبول تھیوری یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کے لحاظ سے ہم جن حالات میں زندگی گزارتے ہیں اس سے ہماری قوت مدافعت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کورونا وائرس بھی ہمارا زیادہ کچھ نہیں بگاڑ پایا۔
اگر یہ سچ ہے تو پھر ثابت یہ ہوتا ہے کہ غربت کے بھی اپنے فائدے ہیں اور یہ بات کسانوں کو بھی سمجھائی جانی چاہیے۔

Comments are closed.