’’ جج اور شہبازشریف کے درمیان دلچسپ مکالمہ‘‘

’’ جج اور شہبازشریف کے درمیان دلچسپ مکالمہ‘‘

احتساب عدالت کے جج نے شہبازشریف کو کمرہ عدالت میں سیاسی باتوں سے پرہیزکرنے کا مشورہ دیتے ہوئے ان کیساتھ مکالمہ کیا کہ آپ میڈیا سے بات کیا کریں وہ فورم ہے،یہاں کیس کے علاوہ بات نہ کریں،مجھے کیس کرنے دیں میرا وقت ضائع نہ کیا جائے ۔منگل کو احتساب عدالت لاہور میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میاں شہبازشریف اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز نے روسٹرم پر حاضری مکمل کرائی۔
 احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کے دوران میاں شہبازشریف نے روسٹرم پر آکر بولنا شروع کردیا اور پی ٹی آئی حکومت بارے کرپشن سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور کہا کہ یہ دیکھیں ، ہماری حکومت میں یہ کرپشن نہیں تھی،ہم نے اللہ کے فضل سے کرپشن کم کی اور قوم کی خدمت کی، ہم نے یہ کرپشن درست کی تھی مگر افسوس ہوا اب کرپشن بڑھ چکی ہے،یہ جو کرپشن کم کرنے کا رونا روتے رہتے ہیں ،رپورٹ آپکے سامنے ہے انہوں نے کہاکہ نیب قیامت کے دن تک میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں کرسکتا ۔جس پر جج نےجواب دیا کہ تو اچھا ہے آپ بری ہو جائیں گے ۔شہبازشریف نے کہا کہ صحت کے حوالے سے عدالتی آرڈر پر مشکور ہوں ،کچھ میڈیکل ٹیسٹ ہونے ہیں، جیل حکام مسلسل تاخیر کررہے ہیں،جیل حکام روز کوئی بہانہ بنا کر میرے ٹیسٹ نہیں کروا رہے ۔جج نے شہبازشریف کیساتھ مکالمہ کرتے ہوئے سیاسی باتوں سے پرہیز کا مشورہ دیا اورکہا کہ آپ میڈیا سے بات کیا کریں وہ فورم ہے،یہاں کیس کے علاوہ بات نہ کریں،مجھے کیس کرنے دیں میرا وقت ضائع نہ کیا جائے ۔نیب پراسیکیوٹر نے بھی شہبازشریف کی سیاسی باتوں پر اعتراض کیا اور کہاکہ عدالت میں کیس اور قانون کی بات کی جائے۔

Comments are closed.