تیل پیداکرنے والے ممالک کے سنہرے دورکاخاتمہ ہونے والاہے

تیل پیداکرنے والے ممالک کے سنہرے دورکاخاتمہ ہونے والاہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )دنیاکے سب سے بڑے میگزین دی اکانومسٹ نےنے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک آرٹیکل میں خبردارکیاتھاکہ سعودی عرب کے حالات اتنے زیادہ خراب ہونے والے ہیںکہ لوگ آپ کوبغاوت کرتے سڑکوں پرنظرآئیں گےاورشاہی خاندان پرچڑھ دوڑیں گے اوران سے پوچھیں گےکہ تم جومملکت میں مہنگائی کررہے ہوتم اپنے یاٹ بیچو،اپنی عیاشیاں کم کرو۔دودن قبلمیگزین نے اس حوالے سے اپناایک نیاآرٹیکل شائع کیاہے جس میں کہاہے کہ تیل پیداکرنے والے ممالک کے سنہری دورکاخاتمہ ہونے والاہے ،عربوں کے لیے اندھیری راتیں شروع ہونے والی ہیں۔ان کے پاس خود کوبچانےکے لیے دوردورتک کوئی راستہ نہیں بچا۔تباہی ان کے دہانے پرآکرکھڑی ہے اوروہ بری طرح پھنس چکے ہیں۔ان کے پاس سوائے بین الاقوامی اداروں سے قرض لینے کے کچھ باقی نہیں بچا۔سعودی عرب کی معیشت کاپاکستان سے بھی براحال ہونے والاہے کوئی ان کونہیں پوچھے گا،ورکرز یہاں سے نکل جائیں گےبڑے بڑے ادارے اب ان کوالوداع کہہ چکے ہیں۔سعودی عرب نے ایک دن قبل 5ارب ڈالرز کاقرض لیاہے۔سعودی عرب کاقرض 228ارب ڈالرز تک پہنچ چکاہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کاقرض 110ارب ڈالرز ہے۔جس میں 100ارب ڈالرز کے قریب بیرونی قرضہ ہے۔دوسری طرف کوروناکی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں طلب کی وجہ سے کمی واقع ہوئی اورخام تیل کی قیمت 2020میں 21ڈالربیرل تک آگئی ۔جبکہ سعودی عرب کومارکیٹ میں رہنے کے لیے 85ڈالرفی بیرل تک قیمت چاہیے۔چین سعودی عرب سے تیل نہیں لے رہاتودوسری طرف بھارت دھمکیاں دے رہاہے کہ تیل کی قیمت کم کروپہلے سے ہی کم قیمت کی وجہ سے سعودی عرب نے تیل کی پیداوارمیں کمی کردی ہے۔جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں توکچھ بڑھی ہیں لیکن ان کی کمائی کم ہوچکی ہے۔

Comments are closed.