کینولی ریسٹورنٹ کی خواتین مالکا ن نے گھٹنے ٹیک دئیے ،ایسااقدام اٹھالیاکہ ہرکوئی تعریف پرمجبورہوگیا

کینولی ریسٹورنٹ کی خواتین مالکا ن نے گھٹنے ٹیک دئیے ،ایسااقدام اٹھالیاکہ ہرکوئی تعریف پرمجبورہوگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک )گزشتہ دنوں سوشل میڈیا ہاٹ ایشو کا ڈراپ سین ہوگیا اور ” کینولی کیفے ” نے اپنے مونوگرام کو اردو میں تبدیل کرکے قومی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں اسلام آباد کے ایک نجی کیفے کی مالکن صرف ٹھیک طریقے سے انگریزی نہ بول پانے کی وجہ سے کیفے کے مینجر کو شدید تضحیک کا نشانہ بنارہی تھی۔ویڈیو کے سوشل میڈیا پر آتے ہی یہ کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا کا ہاٹ ایشو بن گیا جس میں عام عوام کے علاوہ سلیبریٹیرز اور کھلاڑی بھی شامل ہوگئے، سوشل میڈیا سے نکل کر یہ احتجاج کیفے کے سامنے پہنچ گیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے ہوٹل کے سامنے اردو اور پنجابی کا مشاعرہ منعقد کروایا گیا۔تاہم شدید ردعمل کے بعد کینولی کیفے کی انتظامیہ نے لوگوپر اپنے نام کو جو پہلے انگریزی میں تھا اردو میں تبدیل کردیا ہے جس سے یہ پیغام دیئے جانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیفے انتظامیہ قومی زبان کے بجائےانگریزی زبان کو دی جانے والی حد درجہ اہمیت پر نادم ہے اور قومی زبان کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے لوگو کو اردو میں تبدیل کررہی ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایلیٹ کلاس کی خواتین جو خود کو ایک ریسٹورنٹ کا مالک بتاتی ہیں وہ اس ریسٹورنٹ کے منیجر کو بلا کر اس کے ساتھ انگریزی میں بات چیت کرتی ہیں۔ جبکہ منیجر کی انگریزی اتنی اچھی نہیں ہوتی جس پر وہ اس کا مذاق بناتی ہیں اور تمسخر اڑاتے ہوئے ہنستی بھی ہیں۔

Comments are closed.