40یا 45نہیں بلکہ خواجہ آصف کے کتنے بینک اکاؤنٹس نکل آئے؟ن لیگی رہنما کو عمر بھر کیلئے گئے جیل میں ، آج کی بڑی خبر

40یا 45نہیں بلکہ خواجہ آصف کے کتنے بینک اکاؤنٹس نکل آئے؟ن لیگی رہنما کو عمر بھر کیلئے گئے جیل میں ، آج کی بڑی خبر

لاہور(نیو زڈیسک)نیب لاہور نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کے 48 بینک اکاونٹس کاسراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق آمدن سے زائداثاثہ جات اورمنی لانڈرنگ کیس میں سامنے آنے والے 48 بینک اکاؤنٹس خواجہ آصف، فیملی ممبران اور بے نامی داروں کے نام پر کھلوائےگئے جن میں ایک ارب 45 کروڑ روپےکی رقم جمع ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہےکہ خواجہ آصف اور فیملی ممبران کے اکاؤنٹس میں 22کروڑ 30 لاکھ روپے جمع ہوئے۔

ذرائع کے مطابق خواجہ آصف سے بے نامی اکاونٹس کی تفتیش کی جارہی ہے۔
یہاں کے انقلابی اورنام نہاد امیر المومنین دوسرے ممالک میں جا کر چپڑاسی لگتے ہیں، زرتاج گل کی شدید تنقید ، کس کے بارے میں یہ سب کہا ؟ جانیں اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) اپوزیشن اور حکومت میں ٹھنے ایک وقت ہو چلا ،لانگ مارچ کی دھمکیاں تو کبھی استعفے دینے کی باتیں اور پھر سینیٹ یا ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے انکار تو کبھی کیا، نہ تو اپوزیشن میں کوئی دم خم دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی حکومت اس قابل نظر آتی ہے کہ عوام کے لیے کچھ کر سکے۔اپوزیشن اس وقت سڑکوں پر ریلیاں نکالنے اور عوام کو آگہی دینے کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے احتجاج کرتی پھر رہی ہے جبکہ حکومت سینیٹ الیکشن کی تیاری میں مصروف نظر آتی ہے۔ ن لیگ کے راہنما میاں محمد نواز شریف لندن بیٹھے ہوئے ہیں پہلے حکومت اور اب پیپلز پارٹی نے بھی نواز شریف کو وطن واپس آنے اور مل کر پی ڈی ایم کی تحریک کو لیڈ کرنے کی شرط رکھ دی ہے اور اگر وہ نہیں آتے تو استعفےٰ کا معاملہ ٹھنڈ کی نظر ہو جائے گا۔پی ڈی ایم کے انقلاب میں کچھ خاص جنون نظر نہیں آتا یہی وجہ ہے کہ حکومت بھی سکون سے بیٹھی ہوئی ہے۔ اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر زرتاج گل نے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں ن لیگ کے راہنمااور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ خود لندن جا کر بیٹھتے ہیں،وہاں سیاسی پناہ لیتے ہیں،بلکہ اقامہ ہولڈر ہیں اور وہاں جا کر چپڑاسی بھی لگ جاتے ہیں اور یہاں کے عوام کے امیر المومنین اور انقلابی راہنما بننے کی کوشش کرتے ہیں۔خود وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور یہاں عوام کو سڑکوں پر دھکے کھانے کے لیے اکسا رہے ہیں۔اگر اتنے ہی وہ جری لیڈر ہیں تو واپس آئیں پاکستان

ا ور یہاں آکر سبھی معاملات کا سامنا کریں۔انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے محب وطن سیاسی راہنما ہیں کہ ان کے بیانات کو انڈیا اٹھاتا ہے اور وہاں خوشی کے شادیانے بجتے ہیں کیونکہ یہ ان کی زبان بول رہے ہوتے ہیں۔اخلاقی بات یہ ہے کہ وہ یہاں آئیں اور اپنے ورکرز کے ساتھ کھڑے ہوں۔مگر یہ ایسا کبھی بھی نہیں کریں گے۔یہ بھگوڑے ہیں،دوسرے ملک بھاگ جاتے ہیں،اپنے اثاثوںکی منی ٹریل تک دے نہیں پاتے اداروں پر تنقید کرتے اور قدغن لگاتے ہیں۔لہٰذا ان کا انقلاب بھی ٹھنڈا ہو جائے گااور یہ لوگ خود بھی منہ چھپاتے پھریں گے۔

Comments are closed.