کشمیری طلبا کی شہادت بدترین ریاستی دہشت گردی ہے،پاکستان

کشمیری طلبا کی شہادت بدترین ریاستی دہشت گردی ہے،پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ سرینگر سیرو تفریح کیلئے جانیوالے تین کشمیریوں کو شہید کرنا ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے ،بھارتی قابض فوج شہدا کی لاشیں ورثا کے حوالے نہیں کررہی،اقوام متحدہ بھارت ظلم کی اپنے کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائے ۔ترجما ن دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان بھارت کے ہاتھوں شہید تین کشمیریوں کی لاشیں ورثا کے حوالے نہ کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ شہید اعجاز ،زبیر احمد اور اطہر گیارہویں جماعت کے طالب علم تھے جن کی عمریں کم و بیش سولہ سال تھیں اوروہ سیرو تفریح کی غرض سے سرینگر گئے تھے جو بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے جو بھارت ظلم کی ایک نئی شکل ہے ۔شہدا کے ورثا اور ہمسایوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نوجوان بے قصور تھے ان کا دہشت گردی کے کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں اور وہ تفریح کیلئے سرینگر گئے تھے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ اپیل کے باوجود شہدا کی میتوں کو اہلخانہ کے حوالے نہیں کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی فوج کشمیریوں کی مرضی توڑنے کے لئے ظلم کررہی ہے لیکن وہ کشمیریوں کے عزم کو کمزور نہیں سکتی یہ عالمی ضمیر کے لئے شدید تشویشناک ہے ۔دفتر خارجہ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ بھارتی مظالم کی تحقیقات یو این انکوائری کمیشن سے کرائی جائیں۔

Comments are closed.