چین اگر چمگادڑوں کی غار تک جانے کی اجازت دے دے تو مستقبل میں آنے والی وباؤں سے بچا جا سکتا ہے

چین اگر چمگادڑوں کی غار تک جانے کی اجازت دے دے تو مستقبل میں آنے والی وباؤں سے بچا جا سکتا ہے

ایک سال گزر چکا مگر آج تک نہ تو کورونا کا علاج دریافت ہو سکااور نہ ہی اس کے مخزن کا پتا چلایا جا سکا کہ یہ شروع کہاں سے اور کیسے ہوا۔زیادہ تر ممالک کے ذرائع ابلاغ کا یہی دعویٰ ہے کہ گزشتہ برس

کے آخری مہینوں میں کورونا وائرس کا پہلا کیس چین میں سامنے آیااور اس کے بعد آن کی آن میں دنیا کے سبھی ممالک میں پھیل گیا۔ جبکہ چینکی ریاست اس کہانی سے انکاری ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کورونا کیس

اس سے قبل بھی دریافت ہو چکے تھے جو کہ چین میں نہیں بلکہ دیگر ممالک میں سامنے آئے۔تاہم سردست تو اس کا ملبہ چین کے شہر ووہان کے سر ڈالا گیا جہاں چین نے کرفیو لگا کر چند ماہ میں ہی شہر کو کورونا

وائرس سے پاک کر دیا مگر باقی دنیا ابھی بھی اس موذی وبا سے برسرپیکار ہے۔ مگر یہ سوال آج بھی اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کورونا وائرس کا موجب کیا چیز ہے اور یہ پھیلا کہاں سے اگر اس کے سورس کا پتا چل

جائے تو اس کا اینٹی ڈوٹ بنانے میں آسانی ہو جائے گی مگر آج ایک سال ہونے کے بعد بھی اس کے مخزن کا پتا نہیں چل رہا۔ مگر تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس خیال کو تقویت دی جا رہی ہے کہ اس وائرس کا آغاز

چین کے شہر ووہان سے ہوااور اس وائرس کا سبب چمگادڑیں ہیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق یہ وائرس چین میں 2012میں سامنے آیا تھا۔جہاں ایک غار میں اس وائرس کی موجود گی کا پتا چلا تھا مگر چین نے اس

غار کو صحافیوں اور سائنسدانوں کے داخلے کے لیے بند کر دیا تھا۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوبی چین کے علاقے میں جہاں مائین شافٹ ہے وہاں چمگادڑوں کے رہنے کی آماجگاہ ہے اور وہیں پر کورونا وائرس

سامنے آیا تھا مگرچین کی حکومت نے سختی برتتے ہوئے وہاں کسی بھی شخص کو جانے سے منع کردیا تھااور ہزاروں اہلکار سکیورٹی پر معمور کر دیے تھے۔ خیال یہی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں

سے کورونا وائرس نے پھیلتے ہوئے پوری دنیا میں جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ اس مہلک کورونا نے دنیا بھر میں1.7ملین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے ا ور ابھی بھی ا س کے کنٹرول میں آنے کے کوئی چانس نظر

نہیں آتے۔ چونکہ چینی حکومت کی طرف سے اس جگہ جانے پر پابندی ہے لہٰذا دنیا بھر کے صحافیوں اورسائنسدانوں کے لیے کورونا سے متعلق معلومات حاصل کرنا بلیک ہولز کے مترادف ہے۔ چینی سائنسدانوں

کی ایک ٹیم نے اس جگہ کے دورے کے دوران یہاں سے چمگادڑوں کی وجہ سے کورونا وائرس کے پھلاؤ کے ذرائع پتا کیا اور مقامی لوگوں نے اس کے بارے میں معلومات بھی فراہم کیں مگر چینی حکومت کے منع

کرنے پر کسی بھی شخص نے اس حوالے سے میڈیا سے کوئی سچ نہیں بولا۔ تاہم خیال یہی کیا جا رہا ہے کہ چین کے شہر سے ہی یہ وائرس دنیا بھر میں گیا ہے اور جیسا کہ اس کی وجہ نہیں معلوم لہٰذا اس کا علاج دریافت کرنے میں اتنا زیادہ ہی وقت لگ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *