سعودی عرب سے لاکھوں پاکستانیوں کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا ، وجہ کیا بنی ؟ جانیں

سعودی عرب سے لاکھوں پاکستانیوں کو ملازمتوں سے نکال دیا گیا ، وجہ کیا بنی ؟ جانیں

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں گزشتہ چند سالوں سے مختلف شعبوں میں سعودائزیشن کا عمل جاری ہے۔ جس کے تحت غیر ملکی افراد کی نوکریاں ختم کر کے ان کی جگہ سعودی نوجوان خواتین اور مردوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔ اس پالیسی کی وجہ سے اب تک بڑی تعداد میں تارکین وطن متاثر ہوئے ہیں جن میں لاکھوں پاکستانی بھی شامل ہیں۔اب سعودی حکومت نے اکاؤنٹنگ کے تمام شعبوں سے بھی ہزاروں غیر ملکیوں کو نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی بہبودنے چھوٹے اداروں میں اکاؤنٹنگ کے شعبوں سے 30 فیصد غیر ملکی ملازمین

کو نکالنے کے لیے 5 ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ اس مُدت کے بعد سعودائزیشن کی مقررہ حد پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔سعودی وزیر افرادی قوت انجینئر احمد سلمان الراجحی کے مطابق یکم ذوالقعدہ 1442ھ سے اکاؤنٹنگ کے شعبوں میں 30 فیصد سعودائزیشن کی نگرانی کے لیے مہم شروع کر دی جائے گی۔ اس پابندی سے اکاؤنٹنگ کے 19 شعبے متاثر ہوں گے، جن میں فنانس ڈائریکٹر، انٹرنل بجٹ اینڈ اکاوٴنٹس ڈائریکٹر، انٹرنل آڈٹ ڈائریکٹر، جنرل آڈٹ ڈائریکٹر، فنانس آبزرور، ڈائریکٹر شعبہ مالیات، ڈائریکٹر شعبہ ٹیکسیشن اینڈ زکوٰة،ڈائریکٹر شعبہ مالیات، جنرل اکاوٴنٹنٹس، آڈیٹرز کے علاوہ مالیاتی شعبہ سے متعلق تمام پیشے اس فہرست میں شامل ہیں۔وزارت کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ مہلت کے بعد جن اداروں کے اکاؤنٹنگ کے شعبوں میں 30 فیصد سعودی افراد کو تعینات نہیں کیا جائے گا ، ان کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے ان کے اکاؤنٹنگ سے متعلق تمام سرکاری امور منجمد کر دیئے جائیں گے۔جس کے بعد یہ ادارے نہ تو کسی غیر ملکی کارکن کو ویزے جاری کر سکیں گے اور نہ ہی انہیں مذکورہ شعبوں میں کفالت کی تبدیلی کی اجازت دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *