جب ایپل کے سربراہ نے ٹیسلا کے مالک سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

جب ایپل کے سربراہ نے ٹیسلا کے مالک سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

ہم نے اکثر سنا ہے کہ انسان تین لوگوں کو کبھی نہیں بھولتا۔۔۔ ایک وہ جو مشکل وقت میں آپ کی مدد کرتے ہیں، دوسرے وہ جو مشکل وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور تیسرے وہ جو آپ کو مشکل وقت میں ڈالتے ہیں۔کچھ ایسا ہی دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ایلون مسک کے ساتھ بھی ہوا اور وہ آج تک وہ وقت نہیں بھول پائے جب چند برس قبل ان کی کمپنی ٹیسلا مشکل

وقت سے گزر رہی تھی اور انھوں نے اس سلسلے میں ایپل کے سربراہ ٹم کُک سے ملاقات کے لیے وقت مانگا۔امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کے تاریخ ترین دور میں ایپل کے سربراہ ٹم کُک نے ان سے ملنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں انھوں نے سنہ 2017 کے اس واقعے کا ذکر کیا جب انھوں نے ٹم کُک سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ اس وقت ٹیسلا کی مجموعی قدر 60 ارب ڈالر تھی مگر اب اس کی قدر تقریباً دس گنا بڑھ چکی ہے۔ایلون مسک کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایپل کے ممکنہ طور پر ٹیسلا کو خریدنے کے بارے میں بات کرنا تھی کیونکہ اس وقت ٹیسلا اپنی ماڈل 3 الیکٹرک کار بنانے میں مالی طور پر مشکلات میں تھی۔پیسوں کی کمی کے بحران میں ارب پتی ایلون مسک نے اپنے ملازمین کو بتایا کہ ان کی فیکٹری کو ’پیداواری جہنم‘ سے گزرنا پڑا۔کچھ ہفتے بعد انھوں نے ٹویٹ کی کہ انھیں اپنی فیکٹری کی چھت پر سونا پڑا کیونکہ وہ پیداواری مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔مگر ٹیسلا نے آخرکار ان مسائل کو حل کر لیا اور اب کئی سہہ ماہیوں سے متواتر منافع ہو رہا ہے۔ اس ہفتے یہ الیکٹرک کار کمپنی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں شامل ہونے والی مہنگی ترین کمپنیوں میں سے ایک بن گئی۔ایپل نے خود الیکٹرک کار بنانے میں دلچسپی ظاہر کر رکھی ہے اور اس نے ٹیسلا کے متعدد سابق ملازمین کو نوکری بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ ایپل نے ایسی کمپنیاں بھی خریدی ہیں جو کہ خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہیں۔اس وقت ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ ایپل سنہ 2024 تک بغیر ڈرائیور کے کار بنانے کے لیے کوشاں ہے اور بظاہر ایسی لیے مسک نے سنہ 2017 کے اس واقعے کے بارے میں ٹویٹ کیا۔’انھوں نے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا‘، یہ بات مسک نے ایک ٹویٹ چین پر دی جس میں ایپل کو بہتر بیٹری ٹیکنالوجی کے حوالے سے تجاویز دی جا رہی تھیں۔سنہ 2017 کے بعد سے اپیل اور ٹیسلا دونوں کے شیئرز آسمان کو چھونے لگے ہیں تاہم ٹیسلا نے اس دوران زیادہ تیزی سے ترقی کی ہے اور اس کی قیمت تقریباً 1400 فیصد بڑھی مگر کمپنی کل مالیت کے حوالے سے ایپل کے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔

Comments are closed.