میٹرک کیا اور پڑھائی چھوڑ دی۔۔۔ کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے دلجیت سنگھ کنگ آف پنجابی فلم کیسے بنے؟ جانیں

میٹرک کیا اور پڑھائی چھوڑ دی۔۔۔ کسان خاندان سے تعلق رکھنے والے دلجیت سنگھ کنگ آف پنجابی فلم کیسے بنے؟ جانیں

زندگی کی کایا پلٹنے میں دیر تو لگتی ہے مگر ناممکن باتیں بھی کبھی کبھار سچ ہو جاتی ہیں جن کو دیکھ کر انسان خود حیران رہ جاتا ہے کہ خُدا مہربان ہوا تو چھپڑ پھاڑ کر نواز دیا۔یہی کچھ حال بھارت کی پنجابی فلم انڈسٹری کے موجودہ گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کے ساتھ ہوا۔ دلجیت کسانوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے گھر والے بھی ماضی میں اسی پیشے سے وابستہ رہے۔یہ بھارت پنجاب

کے ضلع جالندھر کے دوسانجھ گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد کا نام بلبیر سنگھ اور والدہ کا نام سکھوندر کور ہے۔وسائل کی کمی اور مالی حالات کے باعث دلجیت میٹرک کے بعد تعلیم حاصل نہ کرسکے مگر گردوارے میں کیترن پڑھا کرتے تھے، اس وقت کسی

نے ان کی آواز کے بارے میں یہ خیال بھی نہ کیا تھا کہ یہ اتنے بڑے گلوکار بن جائیں گے۔ایک روز کسی کلاسیکل گائیکی کے ٹیوشن ٹیچر کا ان کے گردوارے آنا ہوا جنہوں نے دلجیت کی آواز سن کر ان کو اپنے ٹیوشن بلایا اور یہیں سے ان کے کیرئیر کی شروعات ہوئی، پھر مختلف مواقع ملتے رہے اور یوں یہ پنجابی فلموں کے اسٹار گلوکار بن گئے، اور کچھ ہی عرصے میں اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تو مداحوں کی جانب سے خوب پسند کیا گیا۔اب دلجیت اپنے گانے بھی خود ہی لکھتے ہیں اور گاتے بھی ہیں، ہندی فلموں اور پنجابی ہندی مکس گانیں بھی گاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کو سب ہی پسند کرتے ہیں۔ دلجیت کو اربن پینڈو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جس کے معنی گاؤں کا پرستار، یعنی گاؤں سے تعلق رکھنے والا ہیرو بن گیا۔آج کل دلجیت خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں

کیونکہ بھارت میں کسانوں کا احتجاج چل رہا تھا جس میں کنگنا رناوت نے ایک معمعر خاتون پر کمنٹ کیا تھا کہ 100 روپے لے کر احتجاج میں شرکت کر رہے ہیں۔جس پر دلجیت سنگھ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اداکارہ کنگنا رناوت کو اپنے ٹوئیٹ کے ذریعے جواباً کہا کہ: کسی کسان نے پیسے لے کر شرکت نہیں کی، سب نے اپنے مسائل کو دیکھتے ہوئے خود ہی شرکت کی ہے ۔ بُزرگوں کی عزت کی جائے ان کے عزتِ نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔

Comments are closed.