پیپلز پارٹی پر اب ہلکا ہاتھ رکھنا ہے کیونکہ ۔۔۔۔۔۔ عمران اینڈ کمپنی نے حیران کن فیصلہ کر لیا

پیپلز پارٹی پر اب ہلکا ہاتھ رکھنا ہے کیونکہ ۔۔۔۔۔۔ عمران اینڈ کمپنی نے حیران کن فیصلہ کر لیا

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی جانب سے استعفوں کی ڈیڈ لائن پر پراعتماد نظر آرہی ہے ،وزیر داخلہ شیخ رشید نے نواز شریف کو واپس لانے کے معاملے پر یہ کہہ کر حکومتی دعوؤں پر مزید سوالات کھڑے

کردیئے ہیں کہ پاکستان کا برطانیہ کے ساتھ مجرمان کی تحویل کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔عمران خان سے بھی انٹرویو کے دوران یہی سوال ہوا تو ان کے چہرے پر بے یقینی اور مایوسی واضح تھی،سینئر صحافی و تجزیہ کار کاشف عباسی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیپلز پارٹی پر ہاتھ ہلکا رکھنے کا سوچ رہی ہے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اعتماد کی وجہ پیپلز پارٹی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اس وقت پی ڈی ایم میں ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ہم نہیں کہتے ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی کہتی ہیں کہ نواز شریف بہت جلد ملک میں ہوں گے ۔ تجزیہ کار کاشف عباسی نے کہا کہ وزیراعظم کیونکہ خود بھی دھرنا دے کر جاچکے ہیں اس لئے ان کو لگتا ہے کہ یہ لوگ سات آٹھ دن سے زیادہ نہیں رہ سکیں گے۔لاہور جلسے کے بعد لگتا ہے کہ پی ڈی ایم اتنا کچھ نہیں کر پائے گی کہ جس سے حالات خراب ہوجائیں۔اسی وجہ سے وزیراعظم بہت پر اعتماد نظر آرہے ہیں۔بلاول اور زرداری دو علیحدہ لوگ ہیں ،بلاول کا اپنی اندرونی میٹنگوں میں کہنا ہے کہ وہ پی ڈی ایم سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ تو جو بھی بات ہوگی وہ آصف زرداری سے ہوگی ان کا نام دوبارہ آنا شروع ہوگیا ہے۔حکومت سوچ رہی ہے کہ پیپلز پارٹی پر ہاتھ ہلکا کردے۔ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ بھی چلی جائے مگر ان کا استعفوں پر پرانا موقف یہ ہے کہ ہم استعفے نہیں دیں گے اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پیپلز پارٹی کس طرف جائے گی۔مارچ سے کچھ نہیں ہوگا جب تک کہ آپ لاکھوں لوگ لاکر اسلام آباد میں بیٹھے نہ رہیں۔

Comments are closed.