اگر پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی توڑ کر حکومت چھوڑ دیتی ہے تو اس کا عمران خان اور پی ٹی آئی کو کیا فائدہ ہو گا ؟ سینئر صحافی مظہر عباس کا خصوصی تبصرہ

اگر پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی توڑ کر حکومت چھوڑ دیتی ہے تو اس کا عمران خان اور پی ٹی آئی کو کیا فائدہ ہو گا ؟ سینئر صحافی مظہر عباس کا خصوصی تبصرہ

پی ڈی ایم نے وزیراعظم عمران خان کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ 31 جنوری تک مستعفی ہوجائیں ورنہ فروری مارچ میں اپوزیشن اتحاد کے لانگ مارچ کے لیے تیار رہیں . اس کے رد عمل کے طور پر حکمران جماعت نے سینٹ کا الیکشن مقررہ شیڈول سے ایک ماہ پہلے

یعنی مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نامور صحافی مظہر عباس اس حوالے سے اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بظاہر سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کرانا اپوزیشن کے خلاف ایک حکومتی چال ہے کیونکہ اگر حکمران جماعت سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی ایک زیادہ سنجیدہ معاملہ ہو گا ۔ اگر پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی توڑ کر حکومت چھوڑتی ہے تو اس کا عمران خان کو یہ فائدہ ہو گا کہ وہ اور زیادہ مضبوط ہو جائیں گے ، بظاہر اپوزیشن اور حکمران جماعت سینیٹ الیکشن سے قبل ہی تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ کسی جانب سے مذاکرات اور بات چیت کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ۔ اگر حکومت صورت حال سے اچھے سیاسی طریقے سے نمٹتی ہے اور اپوزیشن کو زیادہ کچھ دئیے بغیر صورت حال سے نکل جاتی ہے تو پی ڈی ایم بالخصوص مسلم لیگ ن میں دراڑیں بڑھ جائیں گی. پی ڈی ایم نے حیران کن طور پر حکومت کو قریباً چھ ہفتے کا جو وقت دے دیا ہے، وہ استعفوں اور لانگ مارچ کے بعد کے معاملات کے بارے میں اپنے اندرونی مسائل حل کرنے کیلئے ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پی ڈی ایم کے آخری شو کے بعد وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف پنجاب کے بعض لیڈروں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کوئی خاص سپورٹ حاصل نہیں کرائے گی اور یہ جوابی کارروائی کیلئے مناسب موقع ہے. وہ اپریل یا مئی میں بلدیاتی انتخابات بھی کرانا چاہتے ہیں جو ان کے خیال میں مسلم لیگ ن کے تابوت میں آخری کیل ہوں گے، جو پچھلے دو انتخابات میں واحد اکثریتی جماعت رہی ہے. لیکن تحریک انصاف کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ 13 دسمبر کے جلسے میں زیادہ لوگوں کے نہ آنے کے باوجود یہ سوچنا نادانی ہوگی کہ مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک ختم ہوگیا ہے اور پارٹی باقی نہیں رہی. پی ڈی ایم یا یوں کہیں کہ مسلم لیگ ن کے گوجرانوالہ، ملتان اور لاہور کے جلسے عظیم الشان نہ بھی ہوں پھر بھی انہوں نے بڑے اجتماعات کئے اور اپنے ووٹ بنک تک پہنچے. اہم بات وہ پیغام ہے جو انہوں نے پنجاب میں دیا ورنہ یہ صوبہ اسٹیبلشمنٹ کا دل سمجھا جاتا رہا ہے.اب اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ لاکھوں افراد حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کیلئے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں تو اسے تاریخ کو شکست دینا ہوگی. اس تحریک کا حتمی نتیجہ کیا نکلتا ہے، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم اور عمران حکومت کی بدولت دو بڑی مخالف سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت ایک دوسرے کے قریب اور مددگار بن کر سامنے آئے ہیں ۔

Comments are closed.