شادی کے جوڑے میں دس ہزار اصلی موتی نصب تھے جن کی قیمت لاکھوں میں تھی ۔۔۔ شہزادی ڈیانا کے خوبصورت لباس کے پیچھے پوشیدہ راز کیا ہیں؟ جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

شادی کے جوڑے میں دس ہزار اصلی موتی نصب تھے جن کی قیمت لاکھوں میں تھی ۔۔۔ شہزادی ڈیانا کے خوبصورت لباس کے پیچھے پوشیدہ راز کیا ہیں؟ جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

خوبصورتی کی مثالیں دی جائیں تو شہزادی ڈیانا کا نام سرفہرست شامل ہوتا ہے۔ شہرت حاصل کرنے والی لیڈی ڈیانا، امن کی نوبل پرائز یافتہ ڈیانا کی پرکشش شخصیت عالمی سطح پرمقبولیت کا بڑا سبب تھی اور شہزادی کی دل موہ لینے والی مسکراہٹ ان کے دیوانے پرستاروں کو آج بھی یاد ہے۔

لیڈی ڈیانا کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تصاویر لیڈی ڈیانا کی کھینچی گئیں اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی مسکراہٹ اور ان کا پہناوا تھا۔

آج ہم پرنسز ڈیانا کے خوبصورت لباس اور فیشن سینس کے بارے میں چند اہم باتیں جانیں گے۔

1- آپ کو یہ بات سن کر حیرت ہوسکتی ہے کہ جب شہزادی ڈیانا کی منگنی ہوئی تب انہیں فیشن میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن جیسے ہی انہیں فیشن سینس سمجھ آنے لگا تو مختلف ڈیزائنرز کے لباس زیب تن کئے اور پھر وہ فیشن آرٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں۔

2- آپ شاید نا جانتے ہوں کہ لیڈی ڈیانا اپنے ساتھ بیک اب پر بھی کپڑے رکھتی تھیں، کیونکہ اگر ان کے لباس کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچتا تو دوسرے لباس کا انتخاب کرتیں۔

3- لیڈی ڈیانا کا پسندیدہ رنگ گلابی تھا اور آپ نے اکثر انہیں گلابی رنگ کے لباس میں دیکھا ہوگا۔ انہوں نے اپنے شاہی وقت کے دوران متعدد بار اس مخصوس رنگ کے لباس زیب تن کیے۔

4- شہزادی ڈیانا کی شادی کا جوڑا 25 فٹ لمبا اور انتہائی خوبصورت انداز سے تیار کیا گیا تھا۔ ان کے سفید رنگ کے پرکش جوڑے میں دس ہزار موتی جڑے ہوئے تھے۔ حیران کن طور پر پرنسز ڈیانا کے شادی کے جوڑے کی قیمت کروڑوں میں تھی۔

5- آئیکونک خاتون ڈیانا اپنے شوہر شہزادہ چارلس سے قد میں لمبی تھیں جس کے باعث وہ چھوٹی ہیلز پہنا کرتی تھیں۔ علاوہ ازیں ان کی شادی کی چپل میں 320 موتی نصب تھے۔

شہزادی ڈیانا 31 اگست سنہ1997 میں پیرس میں ایک کار حادثے کے نتیجے میں دنیا سے چل بسی تھیں تاہم ان کی موت ایک معمہ بن گئی ، ان کی پُرکشش شخصیت اور فلاحی خدمات دنیا بھر میں ہمیشہ یاد رہیں گی۔

لیڈی ڈیانا کی وفات پر دنیا بھر سے بھیجے جانے والے پھولوں کی تعداد اتنی تھی کہ شاہی محل میں پھول رکھنے کی جگہ باقی نہ رہی تھی۔

Comments are closed.