سابق چیف جسٹس کیلئے بُری خبر۔۔۔ سپریم کورٹ میں بڑا قدم اُٹھا لیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا شمار حالیہ وقتوں میں پاکستان کے سب سے فعال چیف جسٹسز میں ہوتا ہے اور وہ چیف جسٹس کا عہدہ سمھبالنے کے بعد سے ہی کافی فعال ہو گئے تھے۔ اب خبر آئی ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے


خلاف مس کنڈکٹ کے الزام میں دائر ریفرنس کو غیر موثر قرار دینے کے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چینلج کردیا گیا ہے۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو سابق پارلیمنٹرین اور سول سوسائٹی کے افراد نے سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت آئینی پٹیشن دائر کی ہے۔ جس میں فیصلے کو کالعدم کرنے اور ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت لا کر رائے دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر،افرا سیاب خٹک،بشریٰ گوہر،عافیہ شیر بانو،محمد ضیالدین،نگہت سید خان، فریدہ شاہد اور روبینہ سہگل نے دائر کی جب کہ مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی بہن حنا جیلانی نے مرتب کی ہے۔خیال رہے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں مس کنڈکٹ کے الزام میں ریفرنس دائرکیا گیا تھا۔ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس کے حالیہ عدالتی اقدامات اور طرز عمل ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کے منصب اور آئین کے آرٹیکل 209 میں دیے گئے کوڈ آف کنڈکٹ کے تقاضوں کے برعکس ہے۔ چیف جسٹس اپنے طرز عمل اور عدالتی اقدامات کے ذریعے مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اس لئے آئین کے آرٹیکل 209 ذیلی آرٹیکل پانچ کے تحت ان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی ہونی چاہیے۔ریفرنس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں عدالتی فعالیت کا تمام پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس دورکی عدالتی فعالیت سے قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوئی بلکہ دیگر آئینی اداروں میں بے جا مداخلت اور چیف جسٹس کی ذاتی سیاست کی وجہ سے بطور ادارہ عدلیہ کا نقصان ہوا،اس ضمن میں مصنفہ آمنہ سیدکی کتاب چوہدری کی سیاست اور انصاف کا حوالہ بھی دیا گیا تھااس ضمن میں مصنفہ آمنہ سیدکی کتاب چوہدری کی سیاست اور انصاف کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔

Comments are closed.