اتنا طاقتور ہے

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺳﯿﺮ ﺳﭙﺎﭨﮯ ﮐﺮ ﺭہا ﺗﮭﺎ، ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺱ ﮐﯽﻧﻈﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦﺳﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﭘﮭﯿﻨﮑﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﻩ ﺍﯾﻨﭧ ہوﺍﻣﯿﮟ ﻗﻼﺑﺎﺯﯾﺎﮞ ﮐﮭﺎﺗﯽ ہوﺋﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچتی۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ہو ﮐﺮ ﻭﺯﯾﺮ ﺳﮯﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﻪ ہے ﮐﻪ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ہو ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ہوﺋﯽ ﺍﯾﻨﭧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچتی ہے، ﮐﯿﺎ ﯾﻪ ﺍﺗﻨﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ہے؟؟ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﻪ:ﺣﻀﻮﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺳﺎتھ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎہے،ﺍﮔﺮ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻥ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﻭﮞ؟ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﮩﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﻨﺎﭼﺎہتے ہو؟ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ،ﺿﺮﻭﺭﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑہت ہی ﺍﭼﮭﯽ ﮔﺰﺭﺭہی ہے ،ﺍﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽﻻﺣﻖ نہیں ﺍﺳﯽ ﻭﺟﻪ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽﺍﯾﻨﭧ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ پہنچتی ہے۔

ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﺣﻀﻮﺭ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﻭﺯ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﭼﻨﺪ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺗﺤﻘﯿﻖ پر ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﯾﮏ ہفتے ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﻭﻩ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺷﺎﻡ ہوﺗﮯہی ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮہر ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭہتی ہے، ﻭﻩ ﺟﯿﺴﮯ ہی ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﺎ ہے۔ ﺍﺱ ﮐﯽﺑﯿﻮﯼ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽﺑﺎﻟﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ہے،ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﯿﺴﮯ ہی ﻧﮩﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ہوﺗﺎ ہے،ﯾﻪ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎﻟﮕﺎﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺳﮯ ﭘﮑﺎﺗﯽ ہے ﻧﻤﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﭼﯽ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺘﯽ ہے،ﮐﮭﺎﻧﮯﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ہوﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻟﯿﭩﻨﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﻟﮕﺎﺗﯽ ہے، ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮہر ﮐﻮ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺘﯽ ہے۔ﮐﺴﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﺎﺫﮐﺮ نہیں ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺒﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺘﯽ ہے۔ ﺟﺐ ﯾﻪ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯﭘﯿﺶ ہوﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﻩ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ہوا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺍﻥ ﮐﮯﺩﺭﻣﯿﺎﻥ کچھ ﺭﻧﺠﺶ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻧﺘﯿﺠﻪ نکلتا ہے۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﻪ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ہی ﮐﯿﺎ۔

ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﻪ ﺧﺒﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯼ ﮐﻪ ﺗﻤﻬﺎﺭﮮ ﺷﻮہر ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ہیں۔ ﺑﺲ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﻮﮞ ہی ﮔﮭﺮپہنچا ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮐﻪ ﻧﻪ ﺗﻮ نہانےﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﭩﯽ ہے، ﻧﻪ ہیﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ہے، ﻧﻪ ہی ﺳﻮﻧﮯﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺴﺘﺮ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯﻭﺟﻪ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﻭﻩ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﻭﮌﯼ، ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻧﮯ بہت ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﻪ ﻣﯿﮟ ﻧﻪ ﻣﺎﻧﻮ۔ﻏﺮﺽ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﯾﻪ ﻗﺼﻪ ﯾﻮﮞہی ﭼﻠﺘﺎ ﺭہاْ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﺯﯾﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ہم ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہیں۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻭﺯﯾﺮ ﺳﻤﯿﺖ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭﺍﺳﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﻬﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہیں ﮐﻪ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻻکھ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﻨﭧ پہلی ﻣﻨﺰﻝ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺗﯽ ہی نہیں ہے۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﺩﻩ ﻭﺯﯾﺮ ﮐﯽ ﻓﻬﻢ ﻭﻓﺮﺍﺳﺖ ﮐﻮﻣﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ہوﮔﯿﺎ ﮐﻪﺍﯾﻨﭧ ﮐﻮ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮯنہیں ﺑﻠﮑﻪ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽﻧﮯ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ہے۔

کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی غیر معمولی نقل وحرکت, محدود جنگ کا آغاز ہوگیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاک بھارت افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں لائن آف کنٹرول پر غیر علانیہ محدود جنگ کا آغاز ہو چکا ہے،پاک فوج اور دیگر سیکورٹی ادارے مکمل جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی 15ویں کور کے مخصوص یونٹس اور

ویسٹرن ائیر کمانڈ کی فارمیشنز میں غیر معمولی نقل وحرکت سپاٹ کی گئی ہے جو لائن آف کنٹرول پر کسی بڑی شرارت کا عندیہ دے رہی ہے۔افواجِ پاکستان اور دیگر سیکیورٹی ادارے بھارت کی جانب سے کسی بھی کاروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔لائن آف کنٹرول پر غیر علانیہ محدود جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔اعلیٰ حکومتی زرائع نے ٹاپ سیکورٹی آفیشلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی ناردرن کمانڈ کے تحت آپریٹ کرنے والی 15 ویں کور کے ایڈوانس یونٹس کی موومنٹ لائن آف کنٹرول کے قریب سپاٹ کی گئی ہے۔ جب کہ بھارتی ائیرفورس کی ویسٹرن کمانڈ کی فارمیشنز میں بھی غیر معمولی نقل و حرکت سپاٹ کی گئی ہے۔ویسٹرن ائیر کمانڈ کے تحت آپریٹ کرنے والی ائیر بیسز پٹھانکوٹ،ادھم پور، آوانتی پور، لی اور سرینگر میں بھی غیر معمولی نقل و حرکت سپاٹ کی گئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کنٹرول لائن پر کسی بڑی شررات کی پلاننگ کر رہا ہے۔عسکری انٹیلی جنس ادارے لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر پر بھارت کی تمام موومنٹس پر نظر رکھے ہوئے ہیں جب کہ فیلڈ انٹیلی جنس سورسز سے بھی انفارمیشن موصول ہو رہی ہے۔بھار ت 27فروری کے ایڈونچر میں پاکستان کی تیاری اور ایکشن ایبل ان ٹیلی جنس کا مظاہرہ دیکھ چکا ہے

بریکنگ نیوز: سی پیک منصوبے کے حوالے سے ایسی چیز چین سے پاکستان پہنچا دی گئی کہ دنیا دنگ رہ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک آن لائن) جہاں چین پاک اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے وہی یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے دوستی کے رشتے کو مزید گہرا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اب چین پاک اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت


بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کے پہلے منصوبے پر چین نے1.7ارب ڈالرمالیت کے آلات پاکستان پہنچادیے ہیں۔فوشون الیکٹرک پورسلین مینوفیکچرنگ کمپنی چائنہ کی جانب سے30 ڈائریکٹ کرنٹ (ڈی سی) 660 کلوواٹ آف زنک آکسائیڈ لائٹنگ کولر پاکستان بھیجے گئے ہیں۔ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ1.658ارب ڈالر ہے اور2021 تک مکمل کرلیا جائے گا۔پارٹی ورک کمیٹی آف شین فو کے رکن وانگ ژو کژی نے کہاہے کہ کمپنی ایک سڑک اور ایک خطے کے وژن پر کام کررہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری میں مدد ملے گی اور بجلی کے کمرشل وگھریلو صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کویقینی بنایا جاسکے گا۔دوسری خبر کے مطابق چینی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا کہ خطے کی بدلتی صورتحال دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔چینی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور آرمی چیف سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور چین نے مختلف فورمز پر باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا، علاقائی و عالمی تبدیلیوں سے دونوں ممالک کی شراکت داری متاثر نہیں ہوسکتی اور خطے کی بدلتی صورتحال دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات میں رکاوٹ نہیں بن سکتے جب کہ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی امور پر تعاون کو مستحکم کرنے، سی پیک کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔مشترکہ اعلامیہ میں سی پیک منصوبوں سے روزگار کی فراہمی، صنعتی پارکس اور زراعت کے شعبے میں تعاون، دونوں ممالک کا خطے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں اور اسٹریٹجک اعتماد اور سدا بہار تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سی پیک منصوبہ ایک نئے فیز میں داخل ہو چکا ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کا دوطرفہ قیادت کے دوروں اور ملاقاتوں کا تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور دونوں ممالک کا قیادت کے درمیان پائے جانے والے اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان اور چین کو باہمی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت حاصل ہے، دونوں ممالک مستقبل میں بھی کمیونٹی کی تعمیر و ترقی میں تعاون جاری رکھیں گے۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی مضبوطی دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہے، چین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ خطے کے امن و استحکام کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پرامن، مستحکم، معاون اور خوشحالی جنوبی ایشیاء تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔اعلامیہ میں چینی وفد نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک تاریخی تنازعہ ہے اور چین کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے، خطے کے فریقین کو باہمی عزت و برابری کی بنیاد پر تنازعات کا پرامن حل نکالنے کی ضرورت ہے، مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی یک طرفہ اقدام سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر،سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جب کہ چین کا پاکستان کی علاقائی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے کیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

ڈیل فائنل۔۔ رہائی کے بعد نواز شریف کی منزل کیا ہوگی؟فیصلہ ہو گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وزیر اعظم عمران خاں جو اس وقت جیل میں ہیں اور نیب کیسز میں سزا بھگت رہے ہیں جن کا کیس ضمانت کے لئے 18 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر ہو چکا ہے اور اس بار جو کچھ ہو گا وہ ڈیل فائنل ہوچکی ہے اس کے مطابق ہو گا اس بارے میں

سینئیر اینکر پرسن اور تجزیہ کار عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں کے بعد میاں نواز شریف کو عدالت سے ضمانت ملے گی۔ اُن کے کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہو گا۔ ضمانت کے بعد اُنہیں پاکستان سے باہر جا کر علاج کروانے کی اجازت بھی ملے گی۔ میاں نواز شریف صاحب پاکستان سے باہر چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میاں نواز شریف صاحب کو صحت کی بنا پر ضمانت ملے گی، اُنہیں اپنے مقدمے میں ضمانت ملے گی۔ ضمانت کے بعد انہیں صحت کی بنیاد پر بیرون ملک جانے کی اجازت ملے گی جس کے بعد میاں صاحب اپنے بچوں کے پاس علاج کروانے چلے جائیں گے۔ مریم نواز بھی پاکستان سے باہر چلی جائیں گی جس کے بعد نواز شریف کے کیسز التوا کا شکار ہو جائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف یہی کہتی رہے گی کہ ایک کرپٹ انسان ہے وہ صحت کا بہانہ کر کے باہر بھاگ گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو تباہ کیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کا یہ مؤقف ہو گا کہ میاں نواز شریف اُتنا ہی زیادہ بیمار ہیں جتنا اُن کی بیگم صاحبہ بیمار تھیں۔ اور میاں صاحب اپنے کیسز کا آ کر اُسی طرح سامنا کریں گے جیسے انہوں نے پہلے کیا۔ نہ وہ پہلے کبھی بھاگے ہیں نہ وہ اب بھاگیں گے۔اس وقت وہ بیمار ہیں ابھی نہیں آ سکتے۔ مریم نواز بھی عملی سیاست سے دور چلی جائیں گی اور غالباً آئندہ انتخابات میں

وہ وطن واپس آئیں گی ۔ اُس وقت مریم نواز اپنے والد کو بیرون ملک چھوڑ کر ہی واپس آئیں گی اور آ کر پاکستان کی سیاست میں عملی طور پر حصہ لیں گی۔ اس دوران مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو سیاست میں کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ اس کے علاوہ جو پیسہ آنا ہے وہ چیزیں طے ہو چکی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میری اس خبر کو تاریخ لگا کر ریکارڈ کر کے رکھ لیں۔

وزیراعظم عمران خان کے بیٹے بھی والد کے نقش قدم پر چل پڑے جمائما خاںنے دونوں بیٹوں کی ایسی تصاویر شیئر کر دیں کہ ہر کوئی حیران

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خاں کے دو بیٹے سلمان اور قاسم ہیں جو کہ سابقہ اہلیہ جمائمہ خاں کے بطن سے ہیں وہ اکثر اوقات اپنے والد عمران خاں سے ملنے پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں دونوں بیٹے زندگی کا زیادہ تر وقت اپنی والدہ جمائمہ خاں کے پاس لندن میں ہی گزارتے ہیں .


وزیراعظم عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم بھی والد عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے،سابقہ اہلیہ جمائما نے دونوں بیٹوں کی کرکٹ میں انٹری کا عندیہ دے دیا،جمائما گولڈ اسمتھ نے انسٹاگرام پر بیٹوں کی کرکٹ ڈریس والی تصاویر بھی جاری کردیں۔وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انسٹاگرام پر دونوں بیٹوں کی کرکٹ میں انٹری کا عندیہ دے دیا ہے۔ تاہم عمرا ن خان نے کبھی بھی اپنے دونوں بیٹوں کی کرکٹ میں انٹری بارے تبصرہ نہیں کیا۔ لیکن بیٹوں سے متعلق سیاست کے حوالے سے ان کی دلچسپی کو وزیراعظم عمران خان متعدد بار مسترد کرچکے ہیں۔جمائما گولڈ اسمتھ کی اسٹوری میں دیکھا گیا کہ سلیمان اور قاسم کرکٹ ڈریس میں میدان میں موجود ہیں۔ایک اور تصویر میں وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے سلیمان کو بلے اور پیڈ میں دیکھا گیا ۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان دنیائے کرکٹ کے نہ صرف کامیاب مایہ ناز آل راؤنڈر رہے بلکہ مضبوط ترین کپتان اور 1992ء کا ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ عمران خان کو دنیا کا ایک کامیاب شخص کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سیاست میں سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے

وزیراعظم عمران خان نے جب کرکٹ کی دنیا کو خیرباد کہا تو فلاحی اور سماجی کاموں میں بھرپور حصہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے دنیا کا بہترین جدید سہولیات سے آراستہ شوکت خانم ہسپتال بنایا جہاں آج کینسر میں مبتلا مستحق لوگوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، اسی طرح میانوالی کے پسماندہ علاقے میں نمل یونیورسٹی بنائی۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے الیکشن 2013ء میں حصہ لیا لیکن وہ صرف ایک صوبے کے پی میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے۔ لیکن الیکشن 2018ء میں وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور وفاق سمیت پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ بلوچستان میں اُن کی اتحادی حکومت قائم ہے

عبدالقادر آج ہم میں موجود نہیں مگر چند روز قبل وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور عمران خان کے حوالے سے ایک تقریب میں کیا کہہ رہے تھے ؟ آپ بھی جانیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے مایہ ناز سابق لیگ اسپنر اور گگلی ماسٹر عبدالقادر اب ہم میں نہیں رہے پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر عبدالقادر انتقال کر گئے۔ وہ کردار اور گفتار کے غازی تھے، جذبہ شہادت سے بھی سرشار تھے۔ وزیراعظم عمران خان سے ان کی محبت غیر مشروط تھی۔ چند روز قبل وہ کسی تقریب میں تھے وہاں انہوں نے


میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عمران خان کو شیر اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو بکری قرار دیا وہ کہہ رہے تھے عمران خان اور مودی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ عمران خان سب کچھ کر سکتا ہے۔ میں نے اس جیسا بہادر شخص نہیں دیکھا۔ عبدالقادر کہہ رہے تھے کہ یہ قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ افواج پاکستان کشمیری بھائیوں پر ہونے والے ظلم کو روکنے کے لیے ہر راستہ اختیار کریں گی۔کیا نفیس انسان تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ جتنی محبت انہوں نے لوگوں سے کی تھی ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کے پرستار اسے لوٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سارا دن عبدالقادر کے انتقال کی کوریج دیکھتے رہے۔ لکھنے سے پہلے خیال آیا کہ عبدالقادر کے حافظ محمد عمران سے بہت اچھے تعلقات تھے ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ حافظ عمران کو فون کیا تو بتانے لگے کہ چند روز قبل ہی ان سے مل کر آیا ہوں۔ عبدالقادر تو مجاہد کے روپ میں تھے۔ کشمیریوں کے لیے بہت دکھ تھا، بہت کرب اور تکلیف محسوس کر رہے تھے۔عبدالقادر سمجھتے تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے نرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں تو ہمیں دو قدم آگے بڑھنے کی

 

کیا ضرورت ہے۔ ہمیں ان کا راستہ روکنا چاہیے۔ کہنے لگے مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور بہت پسند ہیں۔ کمال گفتگو کرتے ہیں۔ بالخصوص بھارت کو جواب دیتے ہوئے تو ایک ایک لفظ بہت بامعنی اور باوزن ہوتا ہے۔ آئی ایس پی آر کو چاہیے کہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی پوری ویڈیو بنائے اور اس ویڈیو کو ساری دنیا میں بھیجا جائے تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ بھارت کشمیر میں کتنا ظلم و ستم کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں پیش کریں، او آئی سی کو یہ سی ڈی بھجوائیں۔ دنیا خود دیکھے کہ اگر یہ ظلم ان کے اپنے شہریوں پر ہو تو ان کا ردعمل کیا ہو گا۔یہ ظلم ان کے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ہو تو کیا وہ خاموش رہیں گے۔ ہم نے سوال کیا کہ وہ وزیر اعظم کی کشمیر پالیسی پر خوش تھے تو حافظ عمران نے بتایا کہ عمران خان دنیا کو واضح الفاظ میں بتا رہے ہیں کہ مودی دور حاضر کا ہٹلر ہے۔ وہ مسلمانوں کو ہدف بنا کر ختم کر رہا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات کا پرچار کر رہا ہے۔ عمران خان ایٹمی ملک کا وزیراعظم ہے وہ اپنے خیالات اور بھارت کی پرتشدد کارروائیوں کے بارے دنیا کو بتا رہا ہے یہ سب ٹھیک ہے لیکن اسے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں بھارت کی طرف دو قدم جاؤں گا جب نریندرا مودی ظلم و بربریت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے تو ہمیں بھی بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ باقی کھیلوں کی

 

باتیں اپنے کالم میں لکھوں گا اچھا کیا آپ نے فون کر لیا عمران خان کے دیرینہ دوست اورافواج پاکستان تک بھی عبدالقادر کا پیغام پہنچ جائے گا۔ عبدالقادر ہم میں نہیں ہیں۔ وہ اللہ کے حضور کشمیریوں کی آزادی کی دعا لے کر خود ہی پہنچ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول اور خواہش پوری کرے۔ وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر کو حل کریں اور اگر کوئی غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے تو افواج پاکستان اور پاکستانی قوم مل کر نریندرا مودی اور اسکی ظالم افواج کو شکست دے کر کشمیریوں کو آزاد کروائے۔اس وقت یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کا کھانا پینا، ادویات، تعلیم، ہسپتال، رابطے کے ذرائع بند کر دیے ہیں۔ گھومنے پھرنے کی آزادی ختم کر دی ہے۔ کشمیریوں کو گرفتار کر کے بھارتی جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ کشمیر کی حوالاتوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔ ان حالات میں عالمی طاقتوں اور اہم ممالک نے توجہ نہ دی اور اپنا کردار ادا نہ کیا تو خطے میں تباہی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اگر کشمیریوں کے ساتھ یہی برتاؤ رکھا گیا تو پھر دونوں ممالک کے کروڑوں انسانوں کو بھی ا ن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے ان دنوں کشمیری گذر رہے ہیں۔ وزیراعظم بار بار اس اہم مسئلے پر دنیا کی توجہ دلا رہے ہیں۔ افواج پاکستان کی طرف سے بھی اس عزم کا اظہار بارہا کیا جا چکا ہے کہ

 

کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک فرض ادا کریں گے۔ یہ ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے سپہ سالار کے الفاظ ہیں۔ اس کا مطلب بہت واضح ہے۔ اس میں کہیں ابہام یا جھول نہیں ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ ہم اپنے موقف پر سختی سے قائم ہیں۔ بھارت کی طرف سے کشمیر کی حیثیت بدلنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔اسکا یہ بھی مطلب ہے کہ تین سو ستر کا خاتمہ ہماری کشمیر سے وابستگی کو ختم نہیں کر سکتا۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ دنیا جان لے ہماری کشمیر کے ساتھ وابستگی کا پیمانہ کیا ہے۔ ہم کس حد تک کشمیر اور کشمیریوں کے لیے لڑ سکتے ہیں۔ اس لیے اب دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ احساس کرے۔ پاکستان کو بند گلی میں دھکیلا گیا تو اس کا نقصان سب کو ہو گا۔ اگر کشمیر میں بھارتی مظالم، ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ روکی گئی تو اسکا نقصان سب کو اٹھانا پڑے گا۔ کیا عبدالقادر کے خیالات کسی فوجی سے کم ہیں، تریسٹھ برس کی عمرمیں بھی وہ کشمیریوں کی مدد کا جذبہ رکھتے تھے۔ آج قوم کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ قوم متحد ہے، وزیراعظم اپنے مشن سے جڑے ہوئے ہیں اور کامیابی کے لیے پرعزم ہیں۔ افواج پاکستان قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔ بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جائیں گے اور سب مل کر نعرہ لگائیں گے۔ پاکستان زندہ باد۔پائندہ باد

پاکستانیوں نے عمران خان سے محبت اور وفاداری کا حق ادا کر دیا ، خبر کی تفصیلات آپ کا بھی دل خوش کر دیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم پاکستان عمران خاں جن کا شمار دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں ہوتا ہے جس کا اعتراف دنیا بھر کے تجزیہ کار متعدد بار کر چکے ہیں پاکستانی عوام بھی خواہ وہ دنیا کے کسی ملک میں بھی مقیم ہیں اُنہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنے پسندیدہ لیڈر وزیر اعظم عمران خاں کی آواز پر


لبیک کہا ہے . ایک نعرہ پہلے سے مقبول ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان کشمیر تو انشا اللہ پاکستان بنے گا اور ان دنوں بن ہی گیا مگر ہر طرف کشمیر کشمیر ہو رہا ہے۔ جمعرات کے دن جب عمران خان نے کہا تھا 12 بجے کے بعد ہر شخص اپنے اپنے گھر سے باہر نکل آیا ، نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس میں خواتین و حضرات کی تخصیص نہیں تھی۔ ہم سب ایوان کارکنان پاکستان میں تھے۔ سب کے سب باہر نکل آئے اور سڑک پر پہنچ گئے۔ کئی لوگوں کے پاس مختلف بینرز تھے۔ سڑک کے دوسری طرف چند معزز خواتین تھیں۔ ہم نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ اس طرح ہمارا مظاہرہ مکمل ہو گیا۔ ہمارے ہمسائے میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل کے چھوٹے بڑے سب ملازمین بھی باہر نکل آئے۔ ہمیں اچھا لگا۔ ان کی آنکھوں میں وطن کی جو محبت تھی بیش بہا تھی۔ ان کے ہاتھوں میں جھنڈ ے تھے جن کی کسک ہمارے بدن میں بھی سرایت کرتی جا رہی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بڑے نعرے لگائے۔ ایوان کارکنان پاکستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے اور پوسٹر تھے جن پر وطن سے وابستگی کے نعرے لکھے تھے۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر

زندہ باد کے نعرے بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ لگائے جا رہے تھے میں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایسے مظاہرے کبھی نہیں دیکھے۔مجاہد کشمیر اور مجاہد اسلام پروفیسر حافظ سعید سے امریکہ بھارت اور پاکستان تینوں ڈرتے ہیں۔ پاکستان حافظ صاحب کے لیے پریشر برداشت نہیں کر سکتا۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکومتیں ذرا سا دبائو برداشت نہیں کرتیں۔ سب سے پہلی بار حافظ صاحب کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ د یہاتی مزاج کے آدمی ہیں۔ ان میں عسکریت پسندی والی کوئی بات نہیں۔ مگر ان کے پاس دل بہت بڑا ہے اور ان کے چہرے پر خوبصورت داڑھی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک عام سے شخص سے امریکہ اور بھارت ڈرتا ہے اور پاکستان شاید اس لیے ڈرتا ہے کہ ان سے امریکہ اور بھارت کیوں ڈرتے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے ہی کئی شخص تھے جن سے حکمران ڈرتے تھے۔ اصل میں تخت چھن جانے کا اندیشہ بھی تو ایک ہی شخص سے ہوتا ہے۔ مگر جس شخص کے پاس نہ فوج ہو نہ اس سے ملتی جلتی فورس ہو نہ اس نے کبھی تخت نشینی کے شوق میں جنگیں لڑی ہوں، اس سے خوفزدگی کا کیا جواز ہے؟ جو خوفزدہ ہیں وہ جواز سے کچھ زیادہ ہی خوف زدہ ہیں۔ بظاہر وہ اپوزیشن میں

نہیں پھر ان کے پاس کونسی ایسی پوزیشن ہے کہ حکومتیں اپنے مخالفین میں حافظ صاحب کو سب سے زیادہ خطرناک سمجھتی ہیں۔ یہ کوئی اندر کا خوف ہے ورنہ باہر کی صورتحال تو ایسی سنگین بظاہر نظر نہیں آتی۔ کشمیر کے حوالے سے بھی میلہ عمران خان نے لوٹ لیا ہے۔ ہر طرف کشمیر کا نعرہ آزاد کشمیر کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جمعہ کے دن جب عمران خان نے بارہ بجے اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کی تو سب خو اتین و حضرات باہر نکل آئے۔ کئی خواتین نے کچن میں ہانڈی چولھے پر چھوڑ دی۔ کچھ مردوں کو دوسری جوتی پہننے کا خیال نہ آیا۔ سارے پاکستانی خواتین و حضرات گھروں سے باہر آ گئے۔ عمران خان کے لیے محبت اور اطاعت کا یہ جذبہ خوش آئند ہے۔ آئندہ کوئی اور بات عمران خان نے کہی تو اس پر بھی عمل ہو گا۔ جنگی محاذ پر پہنچنے کی ہدایت کے مطابق کام بھی ہو گا۔ عمران خان نے اپنی کریڈیبلٹی ثابت کر دی ہے۔ لوگوں کا یقین بحال کیا ہے بلکہ اسے یقین محکم بنا دیا ہے۔ لگتا ہے کہ اب وہ جو کہے گا لوگ اس پر پورا پورا عمل کریں گے۔پہلے اعتراض یہ تھا کہ عمران خان کے دوست اس جیسے نہیں ہیں۔ اس کی ٹیم اچھی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ لوگ مکمل طور پر

اس کا ساتھ نہیں دے رہے مگر اب تو ڈاکٹر بابر اعوان جیسے لوگ اس کے ساتھ دل و جان سے ہیں۔ امید ہے کہ اب جو امید یں لوگ عمران خان سے رکھتے ہیں وہ ضرور پوری ہونگی۔ جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے اور جو مسائل انہیں درپیش ہیں ان کا عمران خاں کو علم ہے اور احساس بھی ہے اور یہ عزم بھی ہے کہ وہ ان سب باتوں سے نبردآزما ہونگے۔ سب سے بڑی بات مہنگائی کی ہے ، یہ مہنگائی اس دور کی نہیں ہے۔ اس میں پچھلے کئی ادوار کا حصہ شامل ہے مگر ایسا انتظام کیا جا رہا ہے، ایسے اہتمام حکومت کے سامنے ہیں کہ سب مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔ ویسے بھی یہ درست نہیں ہے کہ حکومت کی ڈیڑھ سال کی کارکردگی کو پانچ سالہ کارکردگی کے ساتھ پرکھا جائے۔ البتہ آئندہ کچھ عرصے میں حیرت انگیز تبدیلیاں نظر آئینگی اور مخالفین نے تبدیلی کے لفظ کا جس طرح مذاق بنا لیا ہے حیران رہ جائیں گے۔ انہیں بھی تبدیلی کے لفظ پر یقین آ جائے گا۔ اس سے پہلے بھی عمران خان کی قسمت پر کئی حیران کُن باتیں موجود ہیں اور لوگوں کی یاد میں تو اب جو کچھ ہو گا۔ وہ بھی انہیں یاد رہے گا۔ بس وہ اتنا کریں کہ عمران پر وہی اعتماد رکھیں جو پہلے رکھتے تھے اور تھوڑا انتظار کریں۔ ہماری قوم کو انتظار کرنا نہیں آتا ، صرف انتشار کرنا آتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ انتظار کریں اور اعتبار بھی کریں۔ اعتبار کے بغیر انتظار بے معنی ہے اعتبار کریں اور انتظار کریں۔انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

رات گئے بڑاسیاسی دھماکہ : کپتان نے زرداری کو جیل بجھوا کر پیچھے سے پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی وکٹ گرا دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) الیکشن 2018 سے قبل یہاں پر ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف نے تمام سیاسی جماعتوں کی بڑی بڑی وکٹیں گرا کر ساری جماعتوں کو کنگال کر دیا تھااب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بھی ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا مگر کپتان اب بھی مخالفین کی کٹیں گرا رہے ہیں اب رات گئے


پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق نائب صدر اور قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر، معروف سیاسی و سماجی راہنماء حاجی محمد گلزار اعوان نے پی پی پی کو راولپنڈی کینٹ میں ایک بڑا دھچکا دیتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون محمد بشارت راجہ، پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر زاہد حسین کاظمی اور جنرل سیکریٹری عامر محمود کیانی کی موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے. اس سلسلے میں ایک خصوصی تقریب حاجی محمد گلزار اعوان کی رہائش گاہ واقع ویسٹریج میں منعقد ہو ئی جس میں محمد بشارت راجہ، صدر زاہد حسین کاظمی، عامر محمود کیانی کے علاوہ معروف مذہبی راہنماء پیر کرامت، علمائے کرام، دیگر پارٹی راہنماء اور حاجی محمد گلزار اعوان کے سینکڑوں سپورٹرزبھی موجود تھے. پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے حاجی محمد گلزار اعوان کے اس فیصلے کو زبردست پذیرائی بخشی گئی. محمد بشارت راجہ نے کہا کہ حاجی محمد گلزار اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے راولپنڈی کینٹ میں پارٹی مضبوط اور زیادہ فعال ہو گی. انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک سے روایتی سیاست، کرپشن، نا انصافی اور

لاقانونیت کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ

با اثر حکمرانوں پر بھی قانون کو لاگو کیا گیا. انہو ں نے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ جس طرح پاکستان تحریک انصاف لڑ رہی ہے اس کی توفیق سابقہ کسی حکومت کو نہ ہو سکی. یہ ہمارا اخلاص اور وطن عزیز کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا نتیجہ ہے کہ ہمیں حاجی محمد گلزار اعوان جیسے انتہائی متحرک و فعال ساتھی مل رہے ہیں. زاہد حسین کاظمی اور عامر محمود کیانی نے بھی حاجی گلزار اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے مل کر پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی جدوجہد کرنی ہے جس میں ہمیں مخلص اور صحیح معنوں میں کام کرنے والے ساتھی مل رہے ہیں. حاجی محمد گلزار اعوان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت اور پارٹی منشور پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گذشتہ سالوں میں رات دن ایک کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کے خاموش بیٹھے ورکروں کو گھروں سے نکالا اور پارٹی کو فعال بنایا مگر پارٹی قیادت کو شائد کام کرنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے جن کے سرد رویے سے پارٹی کارکنوں میں شدید مایوسی پھیلی. انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے سیاسی پردے پر تحریک انصاف کے سوا کوئی دوسری جماعت نہیں جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے باہر نکال سکے. انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پورے خلوص نیت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو دنیا پر اجاگر کرکے اس کے حل کی بنیاد رکھ دی ہے اور یہ توفیق سابق حکمرانوں کو نہ ہو سکی

بھارت کی وی وی آئی پیز کیلئے فضائی حدود بند کرنے کے بعد اب کس کی باری ہے؟ پاکستان نے دو ٹوک اعلان کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی وجہ سے بھارتی صدر رام ناتھ کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ بھارت کو مزید رعایت نہیں دیں گے، تمام

متعلقین سے بات کرکے فضائی حدود بند کی۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ بھارت ابھی بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ کشمیر میں مودی حکومت کا رویہ قابل نفرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وی وی آئی پی کے علاوہ بھارتی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کرنا بھی زیر غور ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے یوم دفاع کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرفیو کے ذریعے کشمیریوں کو ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے روکا گیا ہے، ہم کیسے یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں؟فاقی کابینہ اور پارلیمنٹ بھی بھارت کو مزید رعایت دینے کے لیے راضی نہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان نے بھارتی صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ 34 روز سے کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر رکھا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں بربریت اور ظلم ہو رہا ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی صدر نے آئس لینڈ جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات میں بھارتی قیادت کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی جنونیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔

بالآخر حکومت کو عوام پر رحم آ ہی گیا ۔۔۔۔ قیمتوں میں کمی کے حوالے بڑا اعلان کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ دو حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیوں اور کرپشن کی وجہ سے موجودہ حکومت کو اپنے ابتدائی دِنوں سے ہی سخت معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سب معاشی مشکلات کے موجودہ حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اب


اطلاعات ونشریات کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے تندروں کیلئے گیس کے نرخوں میں اضافے پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی وزیراعظم کا بنیادی ہدف اور اولین ترجیح ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر پرفارم نہیں کریں گے تو وزیراعظم کو بھی گھر جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سب کو پرفارم کرنا پڑے گا ورنہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھر واپس جائے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صرف ایک پیمانہ پرفارمنس ہے جو نہیں دے گا وہ جائے گا۔معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان آج لاہور وزیریاسمین راشد اور وزیراطلاعات میاں اسلم اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہی تھیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صحت کے شعبے میں یہ ایک انقلابی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کے شعبے میں یہ ریفارمز بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔ مہذب معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے پیرا میٹرز لانے پڑتے ہیں۔ہسپتال جب بنے تو مختلف قوانین آتے رہے ہیں۔جب تک مسئلے کی جڑ کو نہ پکڑا جائے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں پرچی کی کوئی فیس نہیں ہے، فری علاج ، فری ٹیسٹ اور فری ادویات ہوں گی۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں صحت کے شعبے میں دیے گئے پیسے صحیح طرح سےعوام پرخرچ ہوں۔ اگر ہسپتالوں کا سسٹم اچھا ہوتا تو اصلاحات کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 14 ہزار ڈاکٹرز میرٹ پر بھرتی کیے ہیں۔ کسی سرکاری ہسپتال کی نجکاری نہیں ہورہی۔ حکومت عوام پر پیسے خرچ کرے گی اور ہسپتالوں سے حساب کرے گی۔ اگرحکومت آپ کو نوکری دی رہی ہے تو آپ حکومت کے ملازم ہیں۔ ہر سال ہسپتالوں کی آڈٹ رپورٹ بنائی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے تحت لوگ نجی ہسپتالوں میں بھی علاج کرا سکتے ہیں۔ ہیلتھ کارڈ سے 93 ہزار لوگ مستفید ہو چکے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سب کو کام کرنا پڑے گا ورنہ وہ نقصان اٹھائے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ہی کیوں نہ ہوں۔

عمران خان کے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟ تحریک انصاف سے سب سے مضبوط امیدوار کا حیران کن نام سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تب سے ہی موجودہ وزیر اعظم عمران خاں اور اُن کی حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں قبل ازیں خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ میاں محمد سومرو کو وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے تاہم اب حکومتی جماعت کے بڑے حامی صحافی


سینئیر صحافی ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہشمند تھے تاہم انکی پارٹی میں موجود چند اہم لوگوں کی مخالفت سے یہ خواب پورا نہ ہوا لیکن اب وہ وزیراعظم کےاہم امیدوارہونگے۔ ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم پاکستان بننے کے بڑے امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ جب پاکستان تحریکِ انصاف حکومت میں آئی تو قیاس کیا جا رہا تھا کہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے لیکن ایسا نہ سکا اور عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے عثمان بزدار پر استعفے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جلد عثمان بزدار کو ہٹا دیں گے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ مسلسل نیب تحویل میں رہنے کے دوران سپیکر سندھ اسمبلی نے

اپنی ہی پارٹی کیخلاف کام شروع کیا، آغا سراج نے اپنی جماعذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کے ایک درجن سے زائد ایم پی ایز سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سپیکر نے صوبائی اسمبلی کےارکان کو قائد ایوان کی تبدیلی پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی، سپیکر سندھ اسمبلی نے ایسے ارکان سے رابطہ کیا جو پارٹی اور سندھ حکومت سے نالاں تھے۔ذرائع کے مطابق سراج درانی کے روابط کا راز فاش ہونے پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سخت نوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق پارٹی کی ایم پی ایز سے ملاقاتوں کے بعد ارکان نے ساری بات پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھ دی، پیپلزپارٹی چیئرمین راز فاش ہونے کے بعد شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا فیصلہ بلاول بھٹو کی جانب سے وطن واپسی پر ہو گا، فوری طور پر آغا سراج درانی کیخلاف کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سندھ میں چند عرصے سے پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے والے

گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے لوگوں کو الگ کی جاسکتا ہے لیکن اس سے ہوگا کیا؟ پیپلز پارٹی پھر پوری طاقت سے واپس آئیگی اور فارورڈ بلاک بنانے والے گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں فاورڈ بلاک کی باتیں پرانی ہیں جو بھی پیپلزپارٹی سے الگ ہوئے ، اب وہ کہاںہیں ؟ ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی سے جو الگ ہوا ، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ واضح رہے کہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ہ سندھ میں 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہے، جس میں تھرپار کر اور نواب شاہ کے ایم پی ایز بھی شامل ہیں۔ اس میں مخدوم فیملی اور نادر مگسی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار مراد علی شاہ کی گرفتاری کا انتظار کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر مراد علی شاہ گرفتار ہو جائیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہ رہے کیونکہ 27اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہو چکا ہے اور جیسے ہی مراد علی شاہ گرفتار ہوتے ہیں یہ گروپ پیپلز پارٹی چھوڑ کر الگ ہو سکتا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت نہیں رہے گی ایسی صورت میں آصفہ بھٹو زرداری سندھ میں اپوزیشن لیڈر بنیں گی۔

ایک اور بین الاقوامی ادارے نے پاکستانی آرمی چیف اور پاک فوج کی کس صلاحیت کا واضح اعتراف کر لیا ؟ شاندار خبر آگئی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پر فوج کا اثر و رسوخ نمایاں ہے تاہم پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ غیر سیاسی اور پروفیشنل ہیں۔ امریکی قانون سازوں کے لیے کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی تیار کردہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب واشنگٹن میں


کشمیر کے تنازع سے متعلق خدشات زور پکڑ رہے ہیں۔واشنگٹن میں موجود پالیسی ساز کا ماننا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کس طرح ردِ عمل ظاہر کرے گا اس کا تعین کرنے میں فوج فیصلہ کن کردار ادا کرے گی اور بظاہر اسی وجہ سے سی آر ایس نے فیصلہ کرنے کے عمل میں فوج کے کردار پر امریکی قانون سازوں کے لیے بریفنگ تیار کی۔رپورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو 3 سال کی توسیع ملنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں واضح طور پر پروفیشنل اور غیر سیاسی مانا جاتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق حالانکہ فوج نے 72 برس میں 3 سویلین حکومتوں کو ختم کیا تاہم انہوں نے یہ واضح یا ضمنی صدارتی احکامات پر کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خاتمے اور ایسی فلاحی ریاست جو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرے گی کا نعرہ بلند کر کے بہت سے نوجوانوں، شہریوں اور مڈل کلاس ووٹرز کو متحرک کیاتاہم ان کوششوں کا آغاز ملک کے شدید مالی بحران، حکومتی سادگی اور غیر ملکی قرضے لینے کی ضرورت سے ہوا۔سی آر ایس کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے فوج کے ساتھ اچھے مراسم ہیں اور گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات نے پاکستان کی سیاست پر 2 دہائیوں سے زائد جاری 2 خاندانی جماعتوں کے غلبے کو ڈرامائی طور پر ختم کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کی اقتصادی نمو حالیہ سالوں کے دوران اچھی رہی لیکن آبادی میں اضافے کی رفتار کے حوالے سے کم ہے ۔

عمران خان لڑنا بھی جانتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ قوم اسکے ساتھ کھڑی ہے ، جلد وہ پوری دنیا کو کیا سرپرائز دینے والا ہے ؟ سینئر پاکستانی صحافی نے پیشگوئی کر دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معاشی چیلنجزز سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ملکی حالات آہستہ آہستہ بہتری کی جانب گامزن ہیں اسی طرح پاکستان کے حکمران عمران خان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بنے ہوئے ہیں اور کشمیر کے مسئلے پردنیا کے مردہ ضمیر کو جگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ عمران خان

کشمیر کے سفیر کا کردار بھر پور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔انھوں نے نیویارک ٹائم میں اپنے ایک مضمون میں نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر دنیا کی طاقتوں نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو کشمیر پر جنگ کے اثرات سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ یعنی کشمیر پر ایٹمی جنگ کی صورت میں اس خطے میں جو تباہی آئے گی اس کے بعد کسی بھی ملک کابھارت کے ساتھ تجارتی مفاد اپنی موت آپ مر جائے گا۔ یعنی اس وقت جو ممالک اپنے تجارتی مفاد کو سامنے رکھ کر بھارتی خوشنودی کے لیے کشمیری مسلمانوں کی حمائت سے گریز کر رہے ہیں وہ اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔عمران خان نہایت دانشمندی سے کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ،وہ بے حوصلہ نہیں ہیں، وہ لڑنا جانتے ہیں، ان کے پیچھے پوری پاکستانی قوم یک زبان ہو کر کھڑی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس کے سہارے پاکستان کی حکومت کشمیر پر اپنا واضح موقف دنیا بھر کے سامنے ڈٹ کر پیش کر رہی ہے۔ یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان بھر میں قوم والہانہ وار کشمیریوں کے حمائت میں جس طرح باہر نکلی ہے اس سے

حکومت کے اس موقف کو مزید تقویت ملی ہے کہ پاکستانی قوم مشکل کی اس گھڑی میں اپنی حکومت کے ساتھ ہے۔برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں مسلمانوں اور ہندوئوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں مسلمان سات آٹھ سو برس کی حکمرانی کے بعد زوال پذیر ہوئے تو وہ اپنے سے طاقت ور انگریزوں کے غلام تو بن گئے مگر انھوں نے یہ غلامی دل سے کبھی قبول نہ کی۔ اس دور کے علماء اور مسلم مفکرین نے برطانوی سامراج کے خلاف جدو جہد کی اور دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ہاتھوں تکلیف پہنچی، ان غلام مسلمانوں نے ان کی عملی مدد میں کوتاہی نہیں کی۔ لیکن آج ماضی کے غلام مسلمان اپنے سے امیر اور آزاد مسلمانوں کی جانب سے ہمدردی کے چند لفظوں کو ترس رہے ہیں۔سیاست کے ساتھ اسلامی علوم میں جو تحقیق ہندوستان میں کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہندوستان کے مسلمان علماء اور محققین کو اسلامی دنیا نے تسلیم کیا اور ایک ضرب المثل دنیا میں مشہور ہوئی کہ قرآن عرب میں نازل ہوا، مصر میں پڑھا گیا ، استنبول میں لکھا گیا اور ہند میں سمجھا گیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی اسلامی اور قرآنی علوم سے آشنائی پر اس سے بڑا خراج تحسین اور کیا ہو سکتا ہے۔ ہند کے مسلمان

غلام ضرور تھے مگر بے حد جاندار، غلامی ان کے اندر سے اسلامی احساس اور حمیت کا جوہر ختم نہ کر سکی چنانچہ پوری اسلامی دنیا کسی مادی امداد یا دینی فہم کے لیے ہند کے مسلمانوں کی طرف دیکھتی رہی ۔جب ان مسلمانوں نے اپنا آزاد ملک قائم کیا تو دنیا میں اس اسلامی نظریاتی ملک کا اس قدر غلغلہ برپا ہوا کہ مصر کے شاہ فاروق نے طنزاً اور حسداً کہا کہ اسلام تو 1947 میں نازل ہوا ہے لیکن پوری اسلامی دنیا کے عوام نے پاکستان کے قیام کا زبردست جذباتی اور مخلصانہ خیر مقدم کیا اور اس ملک کو اپنا بازوئے شمشیر زن سمجھا۔ اپنے قیام کے پچاس برس بعد اس اسلامی نظریاتی ملک نے ایٹم بم بنا کر مسلمانوں کی ان امیدوں کو پورا بھی کر دیا ۔ایک طرف تو اسلامی دنیا پاکستانیوں کی طرف مڑ مڑ کردیکھتی تھی لیکن دوسری طرف اس اسلامی پاکستان کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جن کا ناموں کے سوا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انگریزوں نے تو انھیں آزاد کر دیا تھا مگر انھوں نے آزاد ہونے سے انکار کر دیا تھا اور انگریز کے پروردہ اور ان کی باقیات پاکستان کے حکمران بن گئے۔ اس قماش کے لیڈروں کے تحت پاکستان کیا کوئی آزاد اسلامی ملک بن سکتا تھا، بلکہ یہ

ملک تو اپنی جغرافیائی وحدت بھی برقرار اور قائم نہ رکھ سکا۔ ان لوگوں نے پاکستان کی جو گت بنائی اس کو دیکھتے ہوئے آج ڈر لگتا ہے۔دیار ہند کے مسلمان حیرت انگیز حد تک ایک جاندار قوم ہیں ان کی بڑی تعداد ہندوئوں کے ہندوستان میں ہے لیکن کشمیر میں بھارت کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑ رہی ہے ۔ بنگلہ دیش جسے ہندوستان نے آزادی دلائی تھی اپنی علیحدگی کے بعد پاکستان کے حکمرانوں اور بھارت کی قوم سے نفرت کرنے لگا اور باقی ماندہ پاکستان نے بخدا روسی سامراج کے خلاف ایسی جنگ لڑی کہ اسے پسپا ہوتے ہوئے سامراج کو ماسکو میں بھی پناہ نہ ملی اور یہ سلطنت تاریخ کی قبر میں دفن ہو گئی۔ایسا تماشہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی نسل نے یہ سلطنت بنتی اور پھر ختم ہوتے ہوئے دیکھ لی ۔ پاکستانیوں اور افغانوں کا یہ مشترکہ کارنامہ اتنا حیران کن تھا کہ مادی اعتبار سے کمزور پاکستان اور افغانستان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پاکستانی تو آج تک اس کارنامے کو اپناتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ احساس کمتری انھیں پریشان رکھتا ہے۔پاکستان کے اندر آزادی کے بعد عوام اور حکمران طبقے میں جنگ شروع ہو گئی ۔ حکمرانوں کا چونکہ عوام سے کوئی تعلق نہیں رہا اس لیے اس ملک کے استحکام کی کوئی

سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ لیکن اس کے باوجود عوام کے اندر ایک غیرت مند زندگی باقی رہی۔ پاکستان کے بقاء کی ضمانت ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی جانب سے کئی حربے استعمال کیے گئے لیکن یہ غیرت مند قوم ہمیشہ ان عالمی طاقتوں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ یہ قوم زندہ ہے اسی طرح پاکستانی قوم مرتے مر جائے گی مگر بھارت کی بالادستی قبول نہیں کرے گی۔بھارتی بالا دستی قبول کرنے والے ماضی کے حکمرانوں نے طاقتور ملک کو کمزور بنانے کی کوشش کی ۔ یہ ملک غریب نہیں تھا اسے لوٹ مار کر کے غریب بنا دیااور یہ سب کچھ غلط رو قیادت نے کیا ہے ۔ یہ قوم ایک اچھی اور سچی قیادت کی منتظر ہے جس دن اس زندہ قوم کو صحیح قیادت مل گئی یہ نہ کمزور رہے گی اور نہ غریب رہے گی اسے اپنا تعارف بھی مل جائے اور اپنی شناخت بھی اور پھر کسی بھارت کو یہ جرات نہیں ہو گی کہ وہ دن دہاڑے کشمیر پر قبضہ کرے اور کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، زندہ اور جاندار قوم نے کشمیر کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے ۔انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا.

اس تصویر کو غور سے دیکھیں آخر اس میں ایسا کیا ہے ؟ ذہن کو مبہوت کر دینے والی چند تصاویر اس لنک میں ملاحظہ کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں نت نئے کارنامے سامنے آتے ہیں جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ذیل میں دی گئی تمام تصویریں ساکن ہیں لیکن اگر آپ صرف چند سیکنڈ کےلیے انہیں نظر جما کر دیکھیں گے تو یوں لگے گا جیسے ان میں حرکت ہورہی ہے، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ اور تو اوراگر آپ ان میں سے کسی بھی

تصویر کو صرف ایک منٹ کےلیےٹکٹکی باندھ کر دیکھیں گے تو یوں لگے گا جیسے آپ کا سر چکرانے لگا ہے۔

بریکنگ نیوز: عمران خان کا فیصلہ درست ثابت ہوا ۔۔۔ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے تازہ ترین خبر پڑھ کر آپ خوشی سے جھوم اٹھیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دستخط شدہ اصلاحی ایجنڈا اپنی راہ پر گامزن ہے، مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کارکردگی بہت حوصلہ افزا ہے اور حکومت اپنے تمام مقرر کردہ


اہداف حاصل کرلے گی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران تمام کار کردگی اور ساختی بینچ مارک بہت حوصلہ افزا ہیں اور تمام اہداف پورے ہوجائیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری اصلاحی پروگرام پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ خیال رہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب میڈیا میں یہ رپورٹس منظر آئیں کہ مالی 19-2018 کے اختتام پر بڑے خسارے پر پروگرام سے متعلق دوبارہ بات چیت جاری ہے۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تمام اہداف مکمل ہوجائیں گے، اس پر آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی ضرورت نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ میڈیا کو آئی ایف ایف کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور کے دورہ پاکستان سے متعلق غلط فہمی ہوئی۔وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے وزارت کے حکام جہاد آزور سے ملاقات کریں گے اور انہیں اب تک کے حاصل ہونے والے نتائج سے آگاہ کریں گے۔اس کا مزید کہنا تھا کہ یہ دورہ توسیعی فنڈز سہولیات پروگرام کے حتمی ہونے کے فوری بعد ان کے ستمبر میں دورہ پاکستان کو ترتیب دیا گیا تھا، تاہم میڈیا میں اسے نظر ثانی مشن قرار دیا گیا، ان کا یہ دورہ روٹین ہے نظر ثانی نہیں ہے۔وزارت نے کہا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد آئی ایم ایف کی تکنیکی بات چیت ہوگی جس میں دونوں فریقین اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

محرم الحرام میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، ڈالر کی قدر میں کتنی کمی ہوئی؟ بڑا تہلکہ

کراچی (ویب ڈیسک )سٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی گئی، ایک ہفتے میں 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا اور انٹر بینک میں ڈالر 53 پیسے سستا ہوا۔ تفصیلات کے مطابق ایک ہفتے میں 100 انڈیکس 795 پوائنٹس اضافے سے 30467 کی سطح پر بند ہوا، شئیرز کی قیمت بڑھنے پر

مارکیٹ کپیٹلائزئشن 105 ارب روپے اضافے سے 6187 ارب روپے ہوگئی،مہنگائی کی روح توقعات سے کم رہنے پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کی جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا،100 انڈیکس 795 پوائنٹس اضافے سے 30 ہزار467 کی سطح پر بند ہوا، شیئرز کی قیمت بڑھنے پر مارکیٹ کپیٹلائزیشن 105 ارب روپے اضافے سے 6 ہزار187 ارب روپے ہو گئی۔ دوسری جانب ڈالر کی ہفتے وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر 53 پیسے سستا ہوا، ایک ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر 156.85 سے کم ہوکر 156.32 پیسے ہر بند ہوا جبکہ اوپن ایکسچینج میں ڈالر 50 پیسے سستا ہوا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، پنجاب حکومت کے انقلابی اقدامات کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے گا،عدالت نے انسانی خواہشات کے مطابق فیصلے نہیں کئے عدالت کے فیصلہ سے ثابت ہواکہ وہ آزاد ہیں اور امید ہے کہ اب (ن) لیگ عدالتوں پر انگلیاں نہیں اٹھائے گی،جو پیسے دے گا وہی باہر جائے گا لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ فی الحال کوئی ڈیل نہیں ہو رہی ہے، کوئی ہسپتال پرائیویٹائز نہیں کیا جا رہا، پنجاب کا شعبہ صحت میں اصلاحات کا آرڈیننس لے کر آئے ہیں، حکومت کے صحت کے شعبے میں عام آدمی کو تمام سہولتیں فراہم کرنا ترجیح ہے، پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی عوام تک پہنچائی جائے گی،ہسپتالوں میں مشینوں کی خرابی کی صورت میں متعلقہ بورڈ فوری فیصلہ کرے گا، اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

بریکنگ نیوز: شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔۔۔۔ پاکستان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شمار وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے اور کچھ ماہ پہلے ان کی طرف سے پاکستان کا دورہ بھی کیا گیا تھا۔ اور اب اہم خبر آئی ہے کہ سعودی عرب نے سعودی ولی عہد کے


دورے کے دوران پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر عمل درآمد کو تیز بنانے کی یقین دہانی کرادی ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی وفد نے وزیر توانائی کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کیا، سعودی وفد نے مشیرتجارت زراق داود سے ملاقات کی، جس میں سعودی عرب کی جانب سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ سعودی وزیر توانائی نے پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کے معاہدوں پرعمل درآمد کو تیز بنانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا پاکستان میں پیٹرو کیمیکل ریفائنری لگائی جائے گی جو کہ ایک بڑا اور اہم منصوبہ ہوگا۔مشیرتجارت زراق دائود کا کہنا تھا کہ پاکستان کے توانائی سیکٹرمیں بے پناہ مواقع موجود ہیں اور اس سیکٹر میں سعودی عرب کو سرمایہ کاری انتہائی سود مند ثابت ہوگی دوسری خبر کے مطابق چین کا اقتصادی راہداری کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیاہے اور بتایا کہ چین کا پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا بھی منصوبہ ہے ۔چین کے سفارتکار نے کہا کہ پاک چین فری ٹریڈ ایگری منٹ کے دوسرے مرحلے کو اکتوبر میں حتمی شکل دیدی جائے گی جس کے باعث زرعی مصنوعات اور سمندری غذا سمیت 90 فیصد برآمدات پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہو گی ۔ان کا کہناتھا کہ مارکیٹ کی رسائی پاکستان کی برآمدات میں 500 ملین ڈالر کا اضافہ کرے گی جو کہ باہمی تجارت کے خلاکو بھی کم کرے گی ۔انہوں نے شرکاءکو چین کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں ایک بلین ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبے سے متعلق بھی آ گاہ کیا ۔ چین کے ایلچی نے بتایا کہ چین کی کاروباری خواتین کو اسلام آباد میں ہونے والے پانچویں ایکسپو میں بھی دعوت دی جائے گی جو کہ نومبر میں ہونے جارہی ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ اس کے علاوہ پاکستان کی کاروباری خواتین کو چین میں ہونے والی ایکسپوز میں شرکت کیلئے بھیجا جائے گا تاکہ وہ کاروبار کے مواقع تلاش کر سکیں ۔

وزیراعظم بننے کی جنگ شروع!۔۔عمران خان کے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟ تحریک انصاف سے سب سے مضبوط امیدوار کا نام سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تب سے ہی موجودہ وزیر اعظم عمران خاں اور اُن کی حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں قبل ازیں خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ میاں محمد سومرو کو وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے تاہم اب حکومتی جماعت کے بڑے حامی صحافی


سینئیر صحافی ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہشمند تھے تاہم انکی پارٹی میں موجود چند اہم لوگوں کی مخالفت سے یہ خواب پورا نہ ہوا لیکن اب وہ وزیراعظم کےاہم امیدوارہونگے۔ ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم پاکستان بننے کے بڑے امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ جب پاکستان تحریکِ انصاف حکومت میں آئی تو قیاس کیا جا رہا تھا کہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے لیکن ایسا نہ سکا اور عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے عثمان بزدار پر استعفے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جلد عثمان بزدار کو ہٹا دیں گے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ مسلسل نیب تحویل میں رہنے کے دوران سپیکر سندھ اسمبلی نے

اپنی ہی پارٹی کیخلاف کام شروع کیا، آغا سراج نے اپنی جماعذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کے ایک درجن سے زائد ایم پی ایز سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سپیکر نے صوبائی اسمبلی کےارکان کو قائد ایوان کی تبدیلی پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی، سپیکر سندھ اسمبلی نے ایسے ارکان سے رابطہ کیا جو پارٹی اور سندھ حکومت سے نالاں تھے۔ذرائع کے مطابق سراج درانی کے روابط کا راز فاش ہونے پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سخت نوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق پارٹی کی ایم پی ایز سے ملاقاتوں کے بعد ارکان نے ساری بات پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھ دی، پیپلزپارٹی چیئرمین راز فاش ہونے کے بعد شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا فیصلہ بلاول بھٹو کی جانب سے وطن واپسی پر ہو گا، فوری طور پر آغا سراج درانی کیخلاف کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سندھ میں چند عرصے سے پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے والے

گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے لوگوں کو الگ کی جاسکتا ہے لیکن اس سے ہوگا کیا؟ پیپلز پارٹی پھر پوری طاقت سے واپس آئیگی اور فارورڈ بلاک بنانے والے گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں فاورڈ بلاک کی باتیں پرانی ہیں جو بھی پیپلزپارٹی سے الگ ہوئے ، اب وہ کہاںہیں ؟ ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی سے جو الگ ہوا ، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ واضح رہے کہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ہ سندھ میں 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہے، جس میں تھرپار کر اور نواب شاہ کے ایم پی ایز بھی شامل ہیں۔ اس میں مخدوم فیملی اور نادر مگسی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار مراد علی شاہ کی گرفتاری کا انتظار کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر مراد علی شاہ گرفتار ہو جائیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہ رہے کیونکہ 27اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہو چکا ہے اور جیسے ہی مراد علی شاہ گرفتار ہوتے ہیں یہ گروپ پیپلز پارٹی چھوڑ کر الگ ہو سکتا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت نہیں رہے گی ایسی صورت میں آصفہ بھٹو زرداری سندھ میں اپوزیشن لیڈر بنیں گی۔

’’نواز شریف ڈیل کے لیے راضی ہو گئے۔۔۔‘‘ کتنے ارب ڈالرز دینے کی یقین دہانی کروا دی ؟ پوری قوم کو حیرت میں ڈال دینےو الی تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک آن لائن) سابق وزیر اعظم پاکستان و قائد مسلم لیگ ن نواز شریف ان دِنوں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں اور اب نواز شریف کی تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے بہت بڑی خبر سامنے آ گئی ہے۔ اہم تفصیلات کے مطابق قائد ن لیگ


نواز شریف 14 ارب ڈالرز دینے کیلئے راضی ہوگئے، آفتاب اقبال کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ کافی تنگ ہیں، 14 ارب ڈالرز کی رقم صرف نواز شریف کی طرف سے آئے گی، شریف خاندان کے باقی لوگوں سے ملنے والی رقم الگ ہوگی۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں سہولیات کی کمی کے باعث کافی تنگ ہیں۔جیل کے جس سیل میں انہیں رکھا گیا ہے وہاں لوڈ شیڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ نواز شریف ان ہی مشکلات کے باعث 14 ارب ڈالرز کی رقم دینے کیلئے راضی ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے معروف اینکر آفتاب اقبال کا دعویٰ ہے کہ 14 ارب ڈالرز کی جس رقم کی بات ہو رہی ہے وہ تو صرف نواز شریف دے رہے ہیں۔نواز شریف کے علاوہ شریف خاندان کے مزید افراد بھی ہیں اور ان سے بھی پیسہ نکلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ بد عنوان سیاستدانوں نے پیسے دینا شروع کر دئے۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ آصف زرداری کے دوستوں نے پلی بارگین کی کوششیں شروع کر دی ہیں جبکہ نواز شریف کا بھی یہی ارادہ ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی قسمت بدلے گی، دس ہزار نوکریاں دے دی ہیں، کابینہ نے دس ہزار مزید نوکریوں کی منظوری دے دی ہے۔حکومت کا ایک لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ کوریا میں بھی ایک صدر جیل میں ہے دوسراقتل ہو گیا ہے، جو بے ایمان ہو گا، دھوکہ دے گا، عوام اور میڈیا اسے نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز یوم دفاع کے حوالے سے منعقد کی جانے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے کہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر حل ہونے تک امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ہندوستان گزشتہ 72 سالوں سے کشمیریوں کے ساتھ بربریت کررہا ہے لیکن اب فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی سازش ہے کہ وہاں پیسہ لگائے اور کشمیریوں کو ویزوں کا لالچ دے لیکن کشمیری سوائے آزادی کے کچھ نہیں چاہتے ہیں۔ مودی نے22 /24 کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان میں دوسرے درجے کا شہری بنادیا ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہندوستان نے کشمیر کے معاملے کو چھیڑ کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔مسئلہ کشمیر پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔دنیا میں قومیں تباہ ہوتی ہیں لیکن پھر کھڑی ہوجاتی ہیں مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ ان میں جذبہ زندہ ہو۔شیخ رشید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشا اللہ وقت آنے پر پاکستان کے جھنڈے تلے اپنی جان دینے میں فخر محسوس کریں گے۔

تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) ۔۔۔؟ سارے حالات اور واقعات دیکھ کر میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگلے الیکشن میں پنجاب میں یہ جماعت آسانی سے بازی جیت لے گی ۔۔۔ سہیل وڑائچ کی تہلکہ خیز پیشگوئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال گزر چکا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ وہ تب بھی طاقتور تھا وہ آج بھی طاقتور ہے۔ وہ کھیل کے شعبے میں تھا تو اس پر راج کرتا تھا، سیاست کے شعبے میں آیا تب بھی راج کرتا ہے۔ کھیل میں تھا تب بھی

اس کا فیصلہ حرفِ آخر ہوتا تھا، سیاست میں بھی وہ جو کہہ دے اسے سب کو ماننا پڑتا ہے۔ نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرکٹ میں تھا تو سب سمجھاتے تھے کہ منصور اختر نہیں چل پائے گا مگر وہ کہتا تھا نہیں، اس کا بلا سیدھا ہے، اس سے اچھی کور ڈرائیو کوئی نہیں کرتا، اسے کھلائو، یہ ہر صورت کھیلے گا۔ سب کو منصور اختر کو کھلانا پڑتا، وہ کھیلتا رہا مگر چمک نہ سکا اور پھر رفتہ رفتہ غروب ہوگیا۔ کہتے ہیں پرانی عادتیں مشکل سے جاتی ہیں، یہی چلن سیاست میں جاری ہے۔ ہر کوئی کہتا یہ وسم اکرم پلس نہیں، منصور اختر ہے۔ وہ کہتا ہے نہیں، یہ صاف شفاف ہے، سادہ ہے، پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا ہے، تابع فرمان ہے، یہ چمکے گا، یہ وسیم اکرم کی طرح چھائے گا مگر ابھی تک وہ منصور اختر بنا ہوا ہے۔ دیکھیں فیصلہ کرنے والا سوچ بدلتا ہے یا پھر منصور اختر گھر جاتا ہے۔ سیاسی منصور اختر ملنے جلنے میں بہت اچھا ہے مگر گورننس پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک سال سے کم عرصے میں ایک صوبائی محکمے کے 10سیکرٹری بدل چکے ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک میں ایک سال میں 3سیکرٹری آچکے ہیں۔ 2ماہ میں ایک ڈپٹی کمشنر کے 3تبادلے ہوئے، اکھاڑ پچھاڑ کا

تماشا لگا ہوا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ اور اوکاڑہ پر پنجاب سیکرٹریٹ کا حکم نہیں چلتا بلکہ وہاں روحانیت کے ہالے قائم ہیں جن پر کسی اور کا بس نہیں چلتا۔ سیاسی منصور اختر اپنے لیڈر سے ہر ملاقات میں وعدہ کرتا ہے کہ جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے گا مگر یہاں آکر پروٹوکول کی تام جھام میں کھو جاتا ہے۔ ابھی پی ٹی آئی کے ورکرز کو ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں، زکوٰۃ کمیٹیاں اور بے شمار سیاسی اسامیاں خالی ہیں لیکن ان پر کسی کی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔ بلدیاتی ادارے توڑ دیئے گئے، ان کے کروڑوں کے فنڈز نوکر شاہی کے پاس ہیں لیکن پی ٹی آئی کو ان فنڈز سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔ وفاقی وزرا، ارکانِ اسمبلی اور لیڈروں کو شکایت ہے کہ ان کے علاقوں میں ان کی مرضی کے افسر تعینات نہیں کئے جا رہے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب میں ہر رکن صوبائی اسمبلی کو اپنی مرضی کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز دیئے گئے ہیں۔ لامتناہی کہانیاں ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ منصور اختر ہی کھیلے گا، یہی وسیم اکرم پلس ہے۔ وہ بڑی آن اور شان والا ہے، اپنی اّنا پر آنچ نہیں آنے دیتا، کرکٹ میں تھا تب بھی اسی کے فیصلے چلتے تھے، سلیکشن کمیٹی اور بورڈ جو

مرضی کہتے رہیں، چلتی اسی کی تھی۔ اسی لئے منصور اختر نے 19ٹیسٹ میچ کھیلے، 25رنز کی اوسط رہی۔ اس سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں اور یوں بالآخر وہ غروب ہوا۔ اب وہ سیاست میں ہے، یہاں بھی اس نے نئے منصور اختر سے امیدیں لگا لی ہیں۔ ایجنسیاں، ادارے اور شخصیات سب اس کے بارے میں رپورٹس دے چکے ہیں، بڑے صاحب بھی مطمئن نہیں مگر وہ نہیں مانتا۔ اپنی اّنا پر آنچ کیسے آنے دے؟پی ٹی آئی حکومت کا پنجاب میں ایک سال گزر گیا۔ 40سال کے طویل عرصے کے بعد صوبے میں شریف خاندان کی مخالف حکومت آئی تھی، اس کو سیاسی حقائق بدلنے تھے مگر ایک سال میں نون لیگ کا ایک بھی ووٹ توڑا نہیں جا سکا، تکالیف کا شکار ہونے اور جیلوں میں بند ہونے کے باوجود نون لیگ کا ووٹ بینک برقرار رہنا دراصل پنجاب حکومت کی سیاسی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک سال کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات کروا کے گراس روٹ پر پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی مگر یہ منصوبہ بندی کون کرے؟ پنجاب کے شہری مراکز یعنی لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ جہاں نون لیگ کی اصل طاقت ہے ، وہاں سرے سے کوئی سیاست ہی نہیں کی جارہی۔ ان شہروں میں

نون لیگ کی اصل طاقت مڈل کلاس تاجر ہیں، حکومت انہیں ناراض کرنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رہی۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے حوالے سے پنجاب حکومت نے کوئی بھی ایسا منصوبہ نہیں بنایا جو مقبولِ عام ہوا ہو۔ زمینداروں اور کاشت کاروں کو نون لیگ سے ہمیشہ شکایت رہی کہ وہ کسان دوست پالیسیاں نہیں بناتے، تحریک انصاف کے لئے سنہری موقع تھا کہ وہ کاشتکاروں کے دل جیت لیتی، کسان دوست پالیسیاں بناتی اور نون لیگ کا ووٹ بینک توڑ لیتی مگر اس طرف سوچا ہی نہیں گیا۔ وقت کے ساتھ جو تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے وہ محروم طبقات میں عمران کی مقبولیت ہے۔ کسی زمانے میں پنجاب کا یہ طبقہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوتا تھا لیکن اب اس کا رجحان پی ٹی آئی کی طرف ہے۔ یہ انتہائی وفادار ووٹ بینک ہے مگر پنجاب حکومت نے تاحال اس کو کوئی سہولت دینے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ کل کو جب آئندہ انتخابات ہوں گے تو پنجاب میں مقابلہ نون لیگ اور تحریک انصاف میں ہوگا، پیپلز پارٹی تاحال پنجاب میں اپنے قدم نہیں جما سکی۔ نون لیگ کی لیڈر شپ مطمئن ہے کہ اس کا ووٹ بینک برقرار ہے اور پی ٹی آئی کی معاشی پالیسیاں

نون لیگ کے ووٹ بینک کو اور مضبوط کر رہی ہیں۔ متوسط اور تاجر طبقات کو نون لیگ کی معاشی پالیسیاں بڑی راس آئی تھیں اور پچھلے تیس سال میں تاجروں کے معاشی مفادات میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا اس لئے انہیں اپنے معاشی مفادات پر پی ٹی آئی کی ٹیکس تلوار پسند نہیں آرہی اور وہ اپنے بزنس کو سکیڑ کر بیٹھ گئے ہیں جس کا ملک پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ نون لیگ اور شہباز شریف کا طرزِ حکمرانی نوکر شاہی کو ساتھ ملا کر چلنے کا تھا، پنجاب حکومت ابھی تک گورننس کا کوئی بھی ماڈل طے نہیں کر سکی، آدھا تیتر، آدھا بٹیر چل رہا ہے۔ طوائف الملوکی کی سی صورت حال ہے، طاقت کے مراکز بنی گالا سے لے کر لاٹ صاحب تک پھیلے ہوئے ہیں، بڑی بڑی شخصیات اور ناموں والے تو اپنے کام نکلوا رہے ہیں مگر غریب کارکن کی کوئی شنوائی نہیں۔وقت گزر رہا ہے، گزرتا جائے گا، سال ہوگیا وہ منصور اختر کو ہی کھیلائے گا اور اس کے اندر وہ خوبیاں ڈھونڈے گا جو کسی اور کو نظر نہیں آ رہیں۔ کرکٹ کا منصور اختر تو خاموشی سے غروب ہوگیا، سیاسی منصور اختر ناکام ہوا تو اپنے محسن کو بھی غروب کر جائے گا۔